وفاقی دارالحکومت کو کنٹینر سٹی بنانے پر اسلام آباد ہائی کورٹ کی وفاقی حکومت کی سرزنش
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ پورے اسلام آباد میں کنٹینر ایسے پڑے ہیں جیسے کوئی اور ہی حالات ہیں، اچھی سی اینٹی رائٹ فورس کیوں نہیں بناتے۔
پاکستان تحریک انصاف کےاحتجاج کے باعث سڑکوں کی بندش کےخلاف تاجروں کی درخواست کی سماعت کے موقع پراسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا ہے کہ پورے اسلام آباد میں کنٹینر ایسے پڑے ہیں جیسے کوئی اور ہی حالات ہیں ، اینٹی رائٹ فورس کیوں نہیں بناتے، کنٹینر کیوں لگاتے ہیں،کوئی اور طریقہ کیوں اختیار نہیں کیا جاتا۔؟
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے تاجروں کی جانب سے پی ٹی آئی کے احتجاج کے باعث سڑکوں کی بندش کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیے
کسی بھی ٹرینڈ پر محض ٹوئٹ کرنا کوئی جرم نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ
وفاقی پولیس نے تحریک انصاف کے تین اہم رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری حاصل کرلیے
عدالت میں وزارت داخلہ کے جوائنٹ سیکرٹری شبیر خٹک، ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل اور درخواست گزاروں کی جانب سے سردار عمر اسلم ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔
درخواست گزار نے عدالت میں موقف پیش کیا کہ اپریل میں حکومت کی تبدیلی کے بعد سے اب تک احتجاج کیے جارہے ہیں، آزادی مارچ دھرنا کا اعلان اور قائدین کی ہدایت پر سڑکیں بند کردی گئیں۔
تاجروں کی جانب سے درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ شاہراہوں پر رکاوٹوں کے سبب شہریوں اور تاجروں کو مشکلات کا سامنا ہے، اس سے بنیادی حقوق بھی متاثر ہو رہے ہیں، حکومت کو سڑکیں خصوصاً موٹروے پر ٹریفک روانی برقرار رکھنے کی ہدایت کی جائے، اور پی ٹی آئی کو پابند کیا جائے دھرنا اور جلسہ کا انعقاد اسلام آباد سے باہر کریں۔
چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے استفسار کیا کہ موٹروے وفاقی حکومت کا معاملہ ہے، وہ اسے کیوں نہیں کھلواتی۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیا کہ امن و امان صوبائی معاملہ ہے، اس لیے موٹر وے بند ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پورے اسلام آباد میں کنٹینر ایسے پڑے ہیں جیسے کوئی اور ہی حالات ہیں، اچھی سی اینٹی رائٹ فورس کیوں نہیں بناتے، کنٹینر کیوں لگاتے ہیں، کنٹینر لگانے کے بجائے کوئی اور طریقہ کیوں اختیار نہیں کرتے۔
عدالت نے انسپیکٹر جنرل پولیس اسلام آباد کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دیا اور شہر میں دھرنے اور راستوں کی بندش سے متعلق رپورٹ بھی طلب کرلی۔ درخواست کی سماعت 17 نومبر تک ملتوی کردی گئی۔









