دہشتگرد دوبارہ منظم ہوئےتو افغانستان میں کارروائی ہوگی، امریکا

کالعدم ٹی ٹی پی سمیت دیگر گروہوں کو متحرک ہوتے دیکھا ہے، دیکھنا ہے کہ دہشتگرد افغانستان کو پاکستان پر حملوں کیلئے لانچ پیڈ کے طور پر استعمال نہ کریں، ترجمان محکمہ خارجہ نیڈ پرائس

امریکا کو پھر افغانستان کے دہشت گردوں کی پناہ گاہ بننے کا خطرہ لاحق ہوگیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے دوٹوک اعلان کیاہے کہ عالمی دہشت گرد افغانستان میں دوبارہ منظم ہوئے تو کارروائی کریں گے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ محسوس ہوتا ہے کہ طالبان وعدوں کو پورا کرنے کے قابل نہیں، افغانستان ایک بار پھر کہیں بین الاقوامی دہشتگردوں کی پناہ گاہ نہ بن جائے۔

یہ بھی پڑھیے

القاعدہ برصغیر کے سربراہ اسامہ محمود سمیت 4افراد عالمی دہشت گرد قرار

ٹائم میگزین نے ایرانی خواتین کو ہیروز آف دی ایئر قرار دے دیا

واشنگٹن میں اپنی پریس بریفنگ کے دوران نیڈ پرائس نے کہا کہ  خطے میں دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمارے پاس صلاحیتیں موجود ہیں، ہم نے القاعدہ کے امیر ایمن الظواہری کی ہلاکت کے ساتھ ان صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔

ترجمان امریکی وزارت خارجہ نیڈ پرائس نے کہا کہ عالمی دہشت گرد افغانستان میں دوبارہ منظم ہوئے تو کارروائی کریں گے، خطے میں دہشتگردی کے خطرات سے نمٹنے کیلئے جو ہوا کریں گے، ایسے تمام اقدامات کیے جائیں گے جس سے ہمارے مفادات کا تحفظ ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی سمیت دیگر گروہوں کو متحرک ہوتے دیکھا ہے، دیکھنا ہے کہ دہشتگرد افغانستان کو پاکستان پر حملوں کیلئے لانچ پیڈ کے طور پر استعمال نہ کریں۔

نیڈ پرائس نے کہا کہ پاکستان ایک اہم شراکت دار ہے، پاکستان کے ساتھ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، خطے میں شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کیلئے پرعزم ہیں، پاکستان کے ساتھ باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

متعلقہ تحاریر