اسحاق ڈار کے دعوؤں کے برعکس ملک 100 فیصد ڈیفالٹ کے قریب ہے، ماہرین

معاشی ماہرین کا کہنا ہے ملکی برآمدات دن بدن کم ہورہی ہیں جس کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی ہورہی ہے ، ملک کو ڈیفالٹ سے بچانا ہے تو واحد حل یہ ہے کہ حکومت کسی طرح سے آئی ایم ایف کا پروگرام حاصل کرلے۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ایک مرتبہ اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ پاکستان کسی صورت ڈیفالٹ نہیں کرے گا ، جبکہ معاشی ماہرین کا کہنا ہے جب تک آئی ایم ایف نئے قرضے کی قسط جاری نہیں کرے گا ڈیفالٹ کا خطرہ سرپر منڈلاتا رہے گا ، اگر اسحاق ڈار صاحب کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرکے سمجھ رہے ہیں کہ بلی چلے گئی ہے تو یہ محض اُن کی خام خیالی ہے۔

گذشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت معاشی صورتحال کا جائزہ اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار ، گورنر اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر کے حکام نے معاشی صورتحال پر وزیراعظم کو بریفنگ دی۔

یہ بھی پڑھیے

 نومبر میں ترسیلات زر میں 14.3فیصد کمی،2.1ارب ڈالر تک آگئیں

بجلی کی طلب میں کمی، اٹک ریفائنری میں فرنس آئل کی پیداوار عارضی بند

وزیراعظم کو بریفنگ دیتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا پاکستان کے ڈیفالٹ کا کوئی خطرہ نہیں ہے ، بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں وقت پر کی جائیں گی۔

وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا ڈالر ، گندم اور یوریا کی افغانستان کو اسمگلنگ روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ اسمگلنگ روکنے کےلیے تمام اداروں کے درمیان روابط کو مضبوط بنانا ہوگا ، اداروں کے درمیان انٹیلی جنس کے نظام کو موثر بنانا ہوگا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے معاشی ٹیم کو ہدایت دی کہ معیشت کو ہر صورت میں بہتر کیا جائے اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا ڈالر کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے تمام اداروں کے درمیان روابط کو مضبوط کیا جائے ، اور جو کوئی بھی ڈالر کی اسمگلنگ میں ملوث ہے اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

اس قبل ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان میں معیشت کو سیاست سے الگ کرنا ہوگا ، معیشت کی بہتری کے لیے ٹیکسز کی شرح کو بڑھانا ہوگا۔

اسحاق ڈار کی بریفنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملکی برآمدات بڑھ نہیں رہیں، جس کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر میں روزبروز کمی ہورہی ہے ، پاکستان کو کریڈٹ رسک 100 فیصد تک چلے گیا ہے ، جس کی وجہ سے انویسٹرز اس ملک کا رخ نہیں کررہے ، مگر وزیر خزانہ سب اچھا ہے کی بانسری بجا رہے ہیں ، ملک ڈیفالٹ کے کنارے پر کھڑا ہے ، جس کا ثبوت یہ ہے کہ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل بھی اپنے متعدد بیانات میں اس بات اعتراف کرچکے ہیں کہ پاکستان کسی بھی وقت ڈیفالٹ کرسکتا ہے۔

متعلقہ تحاریر