افغان حکومت نے خواتین کی اعلیٰ تعلیم بھی معطل کردی، امریکا کی مذمت
افغان محکمہ تعلیم نے سرکاری و نجی جامعات کو جاری کردہ خط میں خواتین کی تعلیم تاحکم ثانی روکنے کی ہدایت کردی۔ سب کے حقوق کا احترام کرنے تک طالبان عالمی برادری کا حصہ بننےکی توقع نہ رکھیں، نیڈ پرائس

افغان حکومت نے خواتین کی اعلیٰ تعلیم پر پابندی عائد کردی، افغان وزارت اعلیٰ تعلیم نے خواتین کی اعلیٰ تعلیم کی معطلی کا حکم نامہ جاری کر دیا۔
امریکا اور برطانیہ نے طالبان حکومت کے خواتین کی اعلیٰ تعلیم پر پابندی کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
دہشتگرد دوبارہ منظم ہوئےتو افغانستان میں کارروائی ہوگی، امریکا
القاعدہ برصغیر کے سربراہ اسامہ محمود سمیت 4افراد عالمی دہشت گرد قرار
افغان حکومت کی وزارت اعلیٰ تعلیم کی جانب سے ایک خط میں ملک بھر کی سرکاری اور نجی جامعات پر زور دیا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے مزید فیصلہ آنے تک تمام اداروں میں طالبات کی پڑھائی معطل کردی جائے۔
TKD MONITORING:
A letter from the Ministry of Higher Education of Afghanistan has urged all public and private universities across the country to suspend teaching of female students in all institutions until further decision is taken by the goverment. pic.twitter.com/Wu9eVYsyKR— The Khorasan Diary (@khorasandiary) December 20, 2022
افغانستان میں طالبان کی حکومت نے لڑکیوں کی ثانوی تعلیم پر بھی پابندی عائد کررکھی ہے۔ اگست 2021 میں افغانستان پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد طالبان نے صرف پرائمری جماعت تک لڑکیوں کو اسکول جانے کی اجازت دی تھی۔اس سے قبل جامعات میں خواتین کی علیحدہ کلاسز ہونے کی شرط پر خواتین کو اعلیٰ تعلیم جاری رکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔
The United States condemns in the strongest terms the Taliban’s indefensible decision to ban women from universities. The Taliban cannot expect to be a legitimate member of the international community until they respect the rights of all in Afghanistan. https://t.co/aG8JRZSJAq
— Ned Price (@StateDeptSpox) December 21, 2022
دوسری جانب امریکا اور برطانیہ نے افغانستان میں خواتین کی اعلیٰ تعلیم پر پابندی کی مذمت کی ہے۔ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ امریکا خواتین پر جامعات میں پابندی کے طالبان کے ناقابل دفاع فیصلے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ طالبان اس وقت تک بین الاقوامی برادری کے جائز رکن بننے کی توقع نہ رکھیں جب تک کہ وہ افغانستان میں سب کے حقوق کا احترام نہیں کرتے۔









