افغان حکومت نے خواتین کی اعلیٰ تعلیم بھی معطل کردی، امریکا کی مذمت

افغان محکمہ تعلیم نے سرکاری و نجی جامعات کو جاری کردہ خط میں خواتین کی تعلیم تاحکم ثانی روکنے کی ہدایت کردی۔ سب کے حقوق کا احترام کرنے تک طالبان عالمی برادری کا حصہ بننےکی توقع نہ رکھیں، نیڈ پرائس

افغان حکومت نے خواتین کی اعلیٰ تعلیم پر پابندی عائد کردی، افغان وزارت اعلیٰ تعلیم نے خواتین کی اعلیٰ تعلیم  کی معطلی کا حکم نامہ جاری کر دیا۔

امریکا اور برطانیہ نے طالبان حکومت کے خواتین کی اعلیٰ تعلیم پر پابندی کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

دہشتگرد دوبارہ منظم ہوئےتو افغانستان میں کارروائی ہوگی، امریکا

القاعدہ برصغیر کے سربراہ اسامہ محمود سمیت 4افراد عالمی دہشت گرد قرار

افغان حکومت کی وزارت اعلیٰ تعلیم کی جانب سے ایک خط میں ملک بھر کی  سرکاری اور نجی جامعات پر زور دیا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے مزید فیصلہ آنے تک تمام اداروں میں طالبات کی پڑھائی معطل کردی جائے۔

افغانستان میں طالبان کی حکومت نے لڑکیوں کی ثانوی تعلیم پر بھی پابندی عائد کررکھی ہے۔ اگست 2021 میں افغانستان پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد طالبان نے صرف پرائمری جماعت تک لڑکیوں کو اسکول جانے کی اجازت دی تھی۔اس سے قبل جامعات میں خواتین کی علیحدہ کلاسز ہونے کی شرط پر خواتین کو اعلیٰ تعلیم جاری رکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔

دوسری جانب امریکا اور برطانیہ نے افغانستان میں خواتین کی اعلیٰ تعلیم پر پابندی کی مذمت کی ہے۔ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ امریکا خواتین پر جامعات میں پابندی کے طالبان کے ناقابل دفاع فیصلے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ طالبان اس وقت تک بین الاقوامی برادری کے جائز رکن بننے کی توقع نہ رکھیں جب تک کہ وہ افغانستان میں سب کے حقوق کا احترام نہیں کرتے۔

متعلقہ تحاریر