معاشی بدحالی کے باوجود قومی اسمبلی کے ہر رکن کو 500 ملین روپے دیئے جائیں گے
وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زیرصدارت ای سی سی نے بدترین معاشی صورتحال کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے اراکین پارلیمنٹ کے صوابدیدی فنڈزکو 90 ارب روپے تک بڑھادیا جبکہ ججز کی رہائش گاہوں، سپریم کورٹ کی عمارت کی تزئین و آرائش کے لیے 844 ملین روپے بھی مختص کیے ہیں

وفاقی حکومت نے ملک کی مشکل ترین معاشی صورتحال کو نظر انداز کرتے ہوئے اراکین پارلیمنٹ کے صوابدیدی اخراجات کو 90 ارب روپے تک بڑھانے کی منظوری دے دی ہے ۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زیرصدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں ارکان پارلیمنٹ کی ترقیاتی اسکیموں کا بجٹ 90 ارب روپے تک بڑھا دیا گیا ہے ۔
یہ بھی پڑھیے
حکومت کی آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کیلئے امریکا سے مدد کی درخواست
پی ڈی ایم حکومت نےارکان پارلیمنٹ کی ترقیاتی اسکیموں کا بجٹ 70 ارب روپے مختص کیا تھا تاہم اسے کچھ عرصے بعد بڑھا کر 87 ارب روپے کردیا گیا تھا ۔
ارکان پارلیمنٹ کی ترقیاتی اسکیموں کا بجٹ سے ہر ایم این اے کو 500 ملین روپے ملتے تھے تاہم اب نئے اضافے سے ترقیاتی اسکیمزکا بجٹ 90 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔
ای سی سی نے قومی کفایت شعاری کمیٹی کی جانب سے ارکان پارلیمنٹ کی اسکیموں کے لیے فنڈنگ روکنے کی سفارش کے باوجود اضافی 3 ارب روپے کی منظوری دی۔
Finance Minister Senator Mohammad Ishaq Dar presided over the meeting of the ECC and approved a number of financial proposals including cash subsidy to farmers of flood affected area, financial aid to the families of the deceased and pre-shipment inspection of imported wheat. pic.twitter.com/ZkKAPlpkGX
— Ministry of Finance (@FinMinistryPak) January 25, 2023
بدترین معاشی صورتحال سے نبرد آزما وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ججز کی رہائش گاہوں، سپریم کورٹ کی عمارت کی تزئین و آرائش کے لیے 844 ملین روپے بھی مختص کیے ہیں۔
وزارت خزانہ کے مطابق سپریم کورٹ کی عمارتیں، ججز کی رہائش گاہوں، ریسٹ ہاؤسز اور ذیلی دفاتر دیکھ بھال کے لیے 844.4 ملین روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دی گئی۔ .
اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ایک تعلیمی ادارے اور انوویشن سپورٹ پراجیکٹ کے بجٹ میں کمی کرتے ہوئے ارکان پارلیمنٹ کو 3 ارب روپے دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔
یہ بھی پڑھیے
حکومت نے سعودیہ اور امارات کے بعد قطری امداد پر نظریں گاڑلیں
حکومت نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) کے بجٹ میں 1.4 ارب روپے، پلاننگ ہاؤس کی تعمیر کے لیے مختص 800 ملین روپے کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت نے اختراعی سپورٹ پروجیکٹ کے 800 ملین روپے میں کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے بچنے والے 3 ارب روپے نو منتخب ارکان اسمبلی کی سفارشات پر خرچ کیے جائیں گے ۔









