الیکشن کمیشن کا صدر مملکت کے مشاورتی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ
ای سی پی کا موقف ہے کہ صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن آئینی طور پر اس بات کا پابند ہے کہ صوبائی گورنرز کے ساتھ مشاورت کرے۔
پنجاب اور خیبر پختونخوا میں عام انتخابات کا معاملہ ، الیکشن کمیشن آف پاکستان میں اہم اجلاس ہوا جس میں ایوان صدر کے مشاورتی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ ہوا ہے۔
تفصیلات کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیرصدارت الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس ہوا۔ اجلاس میں فیصلہ ہوا ہے کہ ایوان صدر میں پنجاب اور خیبرپختونخوا کی صوبائی اسمبلیوں میں انتخابات کے حوالے سے جو اجلاس ہونا تھا اس میں شرکت نہیں کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن ایوان صدر میں ہونے والے مشاورتی اجلاس کا حصہ نہیں بنے گا۔
واضح رہے کہ گذشتہ روز الیکشن کمیشن کی جانب سے ایوان صدر کو مراسلہ ارسال کیا گیا تھا جس میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ تمام تر معاملات عدالت میں چل رہے ہیں۔
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں چاروں صوبائی چیف الیکشن کمشنرز اور قانونی ماہرین نے بھی شرکت کی۔
الیکشن کمیشن نے اپنی پریس ریلیز میں کہا ہے کہ کل مورخہ 19 فروری کو الیکشن کمیشن بذریعہ مراسلہ تفصیلاً اپنا موقف صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو دے چکا ہے ، اس لیے الیکشن کمیشن اپنے گذشتہ روز کے موقف پر قائم ہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا ہے کہ آئینی طور پر صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن گورنرز سے مشاورت کا پابند ہے اس لیے ان کے مشاورت جاری ہے۔ انہیں تاریخ دینے کے حوالے سے خط لکھ چکے ہیں۔
واضح رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 90 روز میں انتخابات کرانے کے حوالے سے 20 فروری کو مشاورتی اجلاس طلب کیا گیا تھا ، جس میں الیکشن کمیشن کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔









