جسٹس مندوخیل کا نوٹ فاروق نائیک کے پاس کیسے پہنچا ؟ تحقیقات کا مطالبہ سامنے آگیا
پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری نے کہا کہ یہ قابل تشویش ہے کہ جسٹس مندوخیل کا نوٹ جو آرڈر کا حصہ بھی نہیں بنا وہ فاروق نائیک کے پاس پہنچ گیا اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہئیں

تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے رہنما سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ جسٹس جمال مندوخیل کا نوٹ فاروق نائیک تک پہنچنے کی تحقیقات کی جائے ۔
پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے گزشتہ روز پنجاب اور خیبرپختونخوا میں عام انتخابات کے از خود نوٹس کی کی سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل کا نوٹ پڑھ کر سنایا ۔
دوران سماعت پیپلزپارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے جسٹس جمال مندوخیل کا نوٹ پڑھا جس پر جیف جسٹس نے حیران ہوکر پوچھا کہ یہ نوٹ آپ کے پاس ہے ؟ ۔
چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے حیرانگی میں پوچھا کیا یہ نوٹ آپ کے پاس ہے ؟ ابھی تو یہ آرڈر کا حصہ بھی نہیں بنا پی پی کے فاروق ایچ نائیک نے کہا نوٹ میرے پاس ہے۔
پی ٹی آئی کے رہنما سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے جسٹس مندوخیل کا نوٹ پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق نائیک کے پاس پہنچ جانا قابل تشویش بات ہے ۔
یہ بہت قابل تشویش ہے کہ جسٹس مندوخیل کا نوٹ جو ابھی آرڈر کا حصہ بھی نہیں بنا وہ فاروق نائیک کے پاس پہنچ گیا اس معاملے کی تحقیات ہونی چاہئیں اور فاروق نائیک سے پوچھنا چاہئے انھیں یہ نوٹ کس نے پہنچایا؟
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) February 24, 2023
فواد چوہدری نے ٹوئٹ کیا کہ یہ قابل تشویش ہے کہ جسٹس مندوخیل کا نوٹ جو آرڈر کا حصہ بھی نہیں بنا وہ فاروق نائیک کے پاس پہنچ گیا اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہئیں ۔
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز سے منسلک صحافی ثاقب بشیر نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ فاروق ایچ نائیک کی جانب سے جسٹس مندوخیل کا نوٹ پڑھنا حیران کن رہا۔
آج سپریم کورٹ از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران اس وقت حیران کن ماحول بنا جب PPP وکیل فاروق ایچ نائیک نے جسٹس جمال مندوخیل کا نوٹ پڑھنا شروع کیا تو چیف جسٹس نے حیرانگی میں پوچھا کیا یہ نوٹ آپ کے پاس ہے ؟ ابھی تو یہ آرڈر کا حصہ بھی نہیں بنا فاروق ایچ نائیک نے کہا نوٹ میرے پاس ہے
— Saqib Bashir (@saqibbashir156) February 24, 2023
انہوں نے کہا کہ فاروق ایچ نائیک کے جسٹس مندوخیل کا نوٹ پڑھنے پر چیف جسٹس نے حیرانگی میں پوچھا کیا یہ نوٹ آپ کے پاس ہے ؟ ابھی تو یہ آرڈر کا حصہ بھی نہیں بنا ۔
صحافی ثاقب بشیر کی ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے جیو نیوز کے سینئر صحافی عبدالقیوم صدیقی نے کہاکہ محترم ثاقب بشیرآپکی ٹوئٹ کےآخری جملے غلط ہیں ۔
عبدالقیوم صدیقی نے کہا کہ فاروقُ نائیک نے کہا جج جمال مندوخیل کا نوٹ پڑھنا چاہتا ہوں اس پر چیف جسٹس نے کہا وہ ابھی میرے پاس نہیں اور ہم نے آرڈر بھی نہیں دیا ۔
محترم ثاقب بشیرآپکی ٹوئٹ کےآخری جملے غلط ہیں ہوا یوں جب فاروقُ نائیک نے کہا جج جمال مندوخیل کا نوٹ پڑھنا چاہتا ہوں اس پر چیف جسٹس نے کہا وہ ابھی میرے پاس نہیں اور ہم نے آرڈر بھی نہیں دیا تو فارق نائیک نے کہا جسٹس جمال نے اوپن کورٹ میں پڑھا جو ہمارے وکلاء ساتھیوں نے نوٹس لیے تھے https://t.co/xcgeUun71X
— Abdul Qayyum Siddiqui (@QayyumReports) February 24, 2023
چیف جسٹس کے ریمارکس پر پیپلز پارٹی کے وکیل فارق ایچ نائیک نے کہا جسٹس جمال نے اوپن کورٹ میں پڑھا جو ہمارے وکلاء ساتھیوں نے نوٹس لیے تھے۔









