جسٹس مندوخیل کا نوٹ فاروق نائیک کے پاس کیسے پہنچا ؟ تحقیقات کا مطالبہ سامنے آگیا

پی ٹی آئی کے رہنما  فواد چوہدری  نے کہا کہ یہ قابل تشویش ہے کہ جسٹس مندوخیل کا نوٹ جو آرڈر کا حصہ بھی نہیں بنا وہ فاروق نائیک کے پاس پہنچ گیا اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہئیں

تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے رہنما سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات  فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ  جسٹس جمال مندوخیل  کا نوٹ فاروق نائیک تک پہنچنے کی تحقیقات کی جائے ۔

پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے گزشتہ روز پنجاب اور خیبرپختونخوا میں عام  انتخابات کے از خود نوٹس کی کی سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل کا نوٹ پڑھ کر سنایا ۔

دوران سماعت  پیپلزپارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک  نے جسٹس  جمال مندوخیل   کا نوٹ پڑھا جس پر جیف جسٹس نے حیران ہوکر پوچھا کہ یہ نوٹ آپ کے پاس ہے ؟ ۔

چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے حیرانگی میں پوچھا کیا یہ نوٹ آپ کے پاس ہے ؟ ابھی تو یہ آرڈر کا حصہ بھی نہیں بنا پی پی کے  فاروق ایچ نائیک نے کہا نوٹ میرے پاس ہے۔

پی ٹی آئی کے رہنما سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات  فواد چوہدری نے جسٹس مندوخیل کا نوٹ پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق نائیک کے پاس پہنچ جانا قابل تشویش بات ہے ۔

فواد چوہدری نے ٹوئٹ کیا کہ یہ قابل تشویش ہے کہ جسٹس مندوخیل کا نوٹ جو آرڈر کا حصہ بھی نہیں بنا وہ فاروق نائیک کے پاس پہنچ گیا اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہئیں ۔

نجی ٹی وی چینل  ایکسپریس نیوز سے منسلک صحافی ثاقب بشیر نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ فاروق ایچ نائیک کی جانب سے   جسٹس مندوخیل کا نوٹ پڑھنا حیران کن رہا۔

انہوں نے کہا کہ فاروق ایچ نائیک کے جسٹس مندوخیل کا نوٹ پڑھنے پر چیف جسٹس نے حیرانگی میں پوچھا کیا یہ نوٹ آپ کے پاس ہے ؟ ابھی تو یہ آرڈر کا حصہ بھی نہیں بنا  ۔

صحافی ثاقب بشیر کی ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے  جیو نیوز کے  سینئر صحافی عبدالقیوم صدیقی  نے کہاکہ محترم ثاقب بشیرآپکی ٹوئٹ کےآخری جملے غلط ہیں ۔

عبدالقیوم صدیقی نے کہا کہ فاروقُ نائیک نے کہا جج جمال مندوخیل کا نوٹ پڑھنا چاہتا ہوں اس پر چیف جسٹس نے کہا وہ ابھی میرے پاس نہیں اور ہم نے آرڈر بھی نہیں دیا ۔

چیف جسٹس کے ریمارکس پر پیپلز پارٹی کے  وکیل   فارق  ایچ نائیک نے کہا جسٹس جمال نے اوپن کورٹ میں پڑھا جو ہمارے وکلاء ساتھیوں نے  نوٹس لیے تھے۔

متعلقہ تحاریر