ایل سیز کھل نہیں رہیں اور ڈیفالٹ کس کو کہتے ہیں؟ معاشی ماہرین کا اسحاق ڈار سوال
واضح رہے کہ گذشتہ روز سینیٹ کے مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے دعویٰ کیا تھا کہ مشکلات ضرور ہیں مگر پاکستان ڈیفالٹ نہیں کرے گا۔
وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مالی مشکلات ضرور ہیں لیکن ڈیفالٹ کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے جس ملک میں ایل سیز نہ کھلتی ہوں اور ڈیفالٹ کس کو کہتے ہیں۔
سینیٹ کے مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے ملک کے ڈیفالٹ ہونے کی افواہوں کو یکسر مسترد کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موثر حکومتی پالیسیوں کے باعث مشکلات پر جدل قابو پا لیا جائے گا۔
سینیٹر اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ہماری اقتصادی ٹیم دن رات محنت کر رہی ہے، مشکلات پر قابو پالیں گے۔ وفاقی وزیر خزانہ نے شہریوں کو معاشی بحران کی وجہ سے کفایت شعاری کے اقدامات اپنانے کا مشورہ دیا۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستان کو جون میں ایک اور آئی ایم ایف پروگرام کی ضرورت پڑے گی، مرتضیٰ سید
تاریخ میں پہلی مرتبہ ہفتہ وار مہنگائی 43 فیصد تک جا پہنچی
چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا خصوصی اجلاس ہوا جس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور دیگر قانون سازوں نے شرکت کی۔
کمیٹی کے ارکان کی بڑی تعداد نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی جس میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی، سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، سینیٹر فیصل سبزواری، سلیم مانڈوی والا، سینیٹر یوسف رضا گیلانی بھی شامل تھے۔
اس کے علاوہ سینیٹرز شہادت اعوان، مشتاق احمد، سیکرٹری سینیٹ قاسم صمد خان اور سینیٹ کے سینئر افسران نے شرکت کی۔
قائد حزب اختلاف ڈاکٹر شہزاد وسیم نے بھی چیئرمین سینیٹ کی تجاویز کا خیرمقدم کیا، سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ نے اچھی تجاویز دی ہیں اور ان سے اتفاق کرتے ہیں۔ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ملک مشکل حالات سے گزر رہا ہے۔ سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ حکومت کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں کمی کے لیے موثر اقدامات کرے۔
سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور گاڑیوں میں کمی کے حوالے سے اچھے اقدامات کیے ہیں، سول بیوروکریسی کے حوالے سے بھی اقدامات کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے معاشی ماہرین نے اسے مسترد کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ملک نے ڈیفالٹ نہیں کیا تو ایل سیز کیوں نہیں کھل رہیں ، ساحل سمندر پر کھڑے ہزاروں کے تعداد میں کھڑے کنٹینرز اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ ہمارے پاس ڈالر نہیں ہیں۔ جن سے ادائیگی کرکے ان کنٹینرز کو ریلیز کیا جاسکے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر خزانہ آئی ایم ایف سے ڈیل کی نوید سنا رہے ہیں کہ آج ہو جائے گی ، دو دنوں میں ہو جائے گی ، ایک ہفتے میں ہو جائے گی ، مگر ڈیل ہے کہ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی ، جبکہ دوسری جانب آئی ایم ایف کو خوش کرنے کے لیے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بےپناہ اضافہ کرکے متوسط طبقے کے منہ سے دو وقت کا نوالہ بھی چھین لیا گیا۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے اگر فرض کرلیں کہ آئی ایم ایف سے ڈیل ہو بھی جائے گی تو کون سے ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنا شروع ہو جائیں گی ، کیونکہ جون تک پاکستان کو بیرونی ادائیگیوں کے لیے 25 ارب ڈالر درکار ہوں گے ، وہ کہاں سے آئیں گے ، اس کا مطلب ہے کہ پھر آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے گا ، پھر مہنگائی کا طوفان آئے گا۔









