پیمرا کی پابندی غیرقانونی؛ عمران خان کے مشیر قانون نے ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی

عمران خان کے قانونی مشیر بیرسٹر احمد پنسوتا نے پی ٹی آئی چیئرمین پر پیمرا کی پابندی کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے اسے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات کے تحت  اظہار رائے پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی ہے

پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے قانونی مشیر بیرسٹر احمد پنسوتا کا کہنا ہے کہ پیمرا کی جانب سے ٹی وی چینلز پر چیئرمین کی پریس کانفرنسز، تقاریر اور بیانات پر پابندی لگانا غیر قانونی ہے ۔

پیمرا کی جانب سے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی براہ راست اور ریکارڈ تقاریر، پریس کانفرنسز اور بیانات پر پابندی لگانے کے اقدام کو بیرسٹر احمد پنسوتا نے غیر قانونی قرار دے دیا۔

یہ بھی پڑھیے

پیمرا نے عمران خان کی لائیو اور ریکارڈ شدہ تقاریر پابندی عائد کردی

بیرسٹر احمد پنسوتا نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ جسٹس اطہرمن اللہ پیمرا قوانین کے تحت اس حوالے سے ایک فیصلہ دے چکے ہیں اتھارٹی کو حکم امتناعی جاری کا اختیار نہیں ہے ۔

بیرسٹر احمد پنسوتا کا کہنا ہے کہ عمران خان کے قانونی مشیر ہونے کی حیثیت سے میں نے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔ پیمرا کے حکم کو غیر آئینی ہونے کی بنیاد پر چیلنج کیا گیا ہے ۔

 

عمران خان کے قانونی مشیر نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ میں  پیمراکے غیر قانونی حکم امتناع، غیر قانونی، من مانی اور غیر آئینی ہونے کی بنیاد پر چیلنج کیا گیا ہے۔ کیس کی سماعت کل ہوگی۔

ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان  نے  پیمرا کی جانب سے پی ٹی آئی چیف عمران خان کی تقاریر اور پریس کانفرنسز پر پابندی کو اظہار افسوس کرتے ہوئے  آزادی اظہار کی خلاف ورزی قرار دیا ۔

کمیشن نے کہاکہ ہم نے ہمیشہ ماضی میں اظہار رائے کو روکنے کے اقدامات کی مخالف کی ہے۔ گزشتہ دور حکومت ہو یا اس سے پہلے کی حکومتیں، آزادی اظہار کے اپنے عزم پر قائم ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز پیمرا نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر ملکی اداروں کے خلاف تقاریر کرنے کے الزام میں ٹی وی چینلز پر ان کی کوریج پر پابندی لگادی تھی ۔

متعلقہ تحاریر