امریکی حکومت کی لاتعلقی کے باوجود زلمے خلیل زاد کی عمران خان کے موقف کی حمایت
امریکی حکومت نے سابق سفیر زلمے خلیل زاد کے بیانات سے اظہار لا تعلقی کیا ہے تاہم سابق مندوب نے ایک بار پھر عمران خان کی حمایت میں ٹوئٹ کردیا

سابق امریکی سفیر برائے عراق و افغانستان زلمے خلیل ذاد نے ایک بار پھر پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے حق میں بیان دے دیا تاہم امریکا نے ان کے تمام بیانات سے لا تعلقی ظاہر کی ہے ۔
امریکا کے سابق سفیربرائے عراق و افغانستان زلمے خلیل ذاد نے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے عمران خان سے متلعق بیانات کو تشویشناک قرا دیا ہے ۔
یہ بھی پڑھیے
لگتا ہے حکومت عمران خان کو ریاست کا اولین دشمن قرار دینا چاہتی ہے، زلمے خلیل زاد
سابق امریکی سفیر نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ پاکستانی وزیر داخلہ کا یہ بیان کہ "عمران خان رہیں گے یا ہم” چونکا دینے والا ہے۔ ایسا بیان تمام خدا خوفی اور قانون کی پاسداری کرنے والے پاکستانیوں کو مسترد کر دینا چاہیے۔
#Pakistan Interior Minister's statement that "either Imran Khan exists or we do" is shocking and should be rejected by all God fearing and law abiding Pakistanis. It is an incitement to violence against a major political leader. The Prime Minister must publicly disassociate…
— Zalmay Khalilzad (@realZalmayMK) March 28, 2023
زلمے خلیل زاد نے کہا کہ یہ بیان ایک بڑے سیاسی رہنما کے خلاف تشدد پر اکسانا ہے۔ وزیر اعظم کو عوامی طور پر اپنے وزیر کے تبصروں سے خود کو الگ کرنا چاہیے۔
سابق امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ یہ ذہنیت ہی پاکستان کے ناکارہ ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اگر اس میں تبدیلی نہ آئی تو ملک بحرانوں کی لپیٹ میں رہے گا۔
واضح رہے کہ امریکا نے اپنے سابق مندوب برائے عراق و افغانستان زلمے خلیل زاد کے پاکستان کی سیاسی صورتحال کے بارے میں دیئے گئے بیانات سے لا تعلقی کا اظہار کیا ہے۔
سابق امریکی مندوب نے 22 مارچ کو اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’ اشارے مل رہے ہیں کہ پاکستانی پارلیمنٹ سپریم کورٹ سے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو نااہل کرنے کا کہہ سکتی ہے ۔
قبل ازیں زلمے خلیل زاد نے عمران خان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میں الیکشن جلد کرا دیے جائیں۔
زلمے خلیل زاد کے بیان پر پاکستانی دفتر خارجہ نے احتجاج کیا تھا جبکہ حکومتی رہنماوں نے ان کے بیانات کی مذمت کرتے ہوئے انہیں پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا تھا۔









