جسٹس اطہر من اللہ کے اختلافی نوٹ میں حامد خان اور سلمان اکرم راجہ نے 3 بڑے سقم نکال دیئے

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اطہر من اللہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا ہے کہ اسمبلیاں سیاسی مقاصد کے لیے تحلیل کی گئیں ، بات واضح ہے کہ اسمبلیاں سیاسی مقاصد کے لیے ہی تحلیل ہوتی ہیں۔

سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس اطہر من اللہ کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف لکھے گئے اختلافی نوٹ میں تین سقم کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ معروف قانون سلمان اکرم راجہ اور سابق صدر سپریم کورٹ بار حامد خان صاحب نے جسٹس اطہر من اللہ کے اختلافی نوٹ سے اختلاف کیا ہے۔

نجی نیوز چینل اے آر وائی کی سینئر صحافی اور اینکر پرسن ماریہ میمن کے گفتگو کرتے ہوئے ماہر قانون سلمان اکرم راجہ نے اطہر من اللہ کے اختلافی نوٹ پر سیرحاصل گفتگو کی۔

یہ بھی پڑھیے

قومی سلامتی کمیٹی کا ملکی سالمیت پر سمجھوتہ نہ کرنے کے عزم کا اعادہ

نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کے چینل 24 اور سٹی 42 کے اشتہارات کے ریٹ کس طرح بڑھائے گئے

سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا میری رائے میں سپریم کورٹ کے 27 فروری کے 9 رکنی بینچ کے آرڈر کے اثر کا ہے۔ 27 فروری کو 9 جج صاحبان نےایک آرڈر پاس کیا اور چیف جسٹس سے کہا کہ بینچ دوبارہ تشکیل دیا جائے۔ کیونکہ بینچ تبدیل کرنے کا اختیار چیف جسٹس کے پاس ہوتا ہے۔

سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ جسٹس اطہر من اللہ کے اختلافی نوٹ میں 27 فروری کے آرڈر کا کہیں ذکر نہیں ہے۔

سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ میں بھی چونکہ یہ کیس زیرسماعت تھا ، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے بھی یہی کہا کہ چونکہ فیصلہ تین دو سے آگیا ہے اس لیے معاملات اس کے مطابق چلیں گے۔ اور اس اپیل کو ختم کردیا گیا۔ اسی طرح پشاور ہائی کورٹ نے بھی یہی کہا ہے کہ چونکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آگیا ہے اس لیے اب اس معاملے کو سننے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی۔

سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ اطہر من اللہ صاحب یہ بتائیں کہ جس بینچ کا فیصلہ چار تین سے تھا اس کا جو آپریٹو آرڈر ہے وہ تو یہ کہہ رہا ہے کہ یہ درخواست چیف جسٹس کے پاس واپس جارہی ہے۔ اور کہا ہے جارہا ہے کہ چیف جسٹس بینچ کو دوبارہ تشکیل دیں۔ اور پھر چیف جسٹس صاحب نے 5 رکنی بینچ تشکیل دیا جس نے فیصلہ دیا۔ اس لیے آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ پٹیشن ریجیکٹ ہو گئی تھی ، آپ نے تو چیف جسٹس کو پٹیشن واپس بھیجی تھی کہ دوبارہ بینچ تشکیل دیں۔ آپ نے اپنے اختلافی نوٹ میں بھی انکار نہیں کیا کہ آپ نے سائن نہیں کیا تھا۔ کیونکہ آپ کے سائن اس آرڈر پر موجود ہیں۔

دوسری جانب دنیا نیوز کے معروف اینکر پرسن کامران خان کے پروگرام میں ماہر قانون اور سپریم کورٹ بار کے سابق صدر حامد خان نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔

حامد خان کا کہنا تھا کہ اطہر من اللہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا ہے کہ اسمبلیاں سیاسی مقاصد کے لیے تحلیل کی گئیں ، بات واضح ہے کہ اسمبلیاں سیاسی مقاصد کے لیے ہی تحلیل ہوتی ہیں ، اسمبلی کا تحلیل ہونا اور اسمبلی کا معرض وجود میں آنا بھی سیاسی عمل ہی ہوتا ہے۔ آپ کا تو یہ ڈومین نہیں کہ آپ یہ دیکھیں کہ اسمبلی سیاست کے تحت تحلیل کی گئی تھی۔ آئین کے مطابق وزیراعلیٰ جب بھی چاہے اسمبلی کو تحلیل کرسکتا ہے۔ وہ ریزن دینے کا پابند نہیں ہے۔

جس تیسرے سقم کی جانب دونوں قانون دانوں نے توجہ دلائی ہے وہ یہ ہے کہ اگر اطہر من اللہ صاحب اس بینچ کا حصہ تھے تو انہوں نے اس وقت بات کیوں نہیں کی۔ جب چیف جسٹس صاحب اس کیس کو سن رہے تھے۔ اطہر من اللہ صاحب بینچ کا حصہ تھے اور خاموش بیٹھے تھے۔

متعلقہ تحاریر