آشیانہ اسکینڈل؛ شہباز شریف اور احد چیمہ نے بریت کی درخواست دائر کردیں
نیب ترمیم کے بعد شہباز شریف اور احد چیمہ نے آشیانہ سکینڈل میں اپنی بریت کی درخؤاست دائر کی جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ نیب کی ضمنی تحقیقاتی رپورٹ میں ہمیں بے گناہ قرار دیا گیا ہے

وفاقی حکومت کی جانب سے نیب ترمیم کے بعد وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے معاون خصوصی احد چیمہ نے لاہور کی احتساب عدالت میں آشیانہ اقبال ہاؤسنگ سکیم کیس میں بریت کی درخواستیں دائر کردیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیرقیادت حکومت کی جانب سے قومی احتساب بیورو (نیب) کے قوانین میں ترامیم کے بعد نون لیگ کے صدر شہباز شریف اور ان کے مشیر احد چیمہ نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ سکیم کیس میں بریت کی درخواستیں کیں۔
یہ بھی پڑھیے
توشہ خانہ کیس؛ بشریٰ بی بی نے نیب تحقیقات رکوانے کیلئے درخواست دائر کردی
ہفتہ کو شہباز شریف اور احد چیمہ کی جانب سے وکیل امجد پرویز نے بریت کی درخواستیں دائر کیں جس میںموقف اختیار کیا گیا کہ نیب کی ضمنی تحقیقاتی رپورٹ میں کوئی بدعنوانی ثابت نہیں ہوئی۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ نیب نے ضمنی تحقیقاتی رپورٹ میں [ہمیں] بے گناہ قرار دیا۔ ہمارے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے۔ انہوں نے مقدمے میں ان کی بریت کا مطالبہ کیا۔
یاد رہے کہ فروری 2019 میں، احتساب عدالت نے آشیانہ اقبال اسکینڈل کیس میں شہباز شریف اور دیگر پر باضابطہ طور پر فرد جرم عائد کی تھی۔
رمضان شوگر ملز کیس میں اس وقت کے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کے خلاف ایک اور ریفرنس دائر کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
توشہ خانہ کیس؛ اسلام اباد ہائیکورٹ کا بشریٰ بی بی کی درخواست پر نیب کو نوٹس
شہباز شریف پر اپنے اختیارات کا غلط استعمال اور لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل احد خان چیمہ کے ساتھ مل کر ہاؤسنگ اسکیم کا ٹھیکہ کامیاب بولی دینے والے کے بجائے پسندیدہ کمپنی کو دینے کے الزامات شامل ہیں۔
اپوزیشن لیڈر پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی (پی ایل ڈی سی) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اختیارات کو نظرانداز کرتے ہوئے منصوبے کو پی ایل ڈی سی سے ایل ڈی اے کو منتقل کیا۔









