الیکشن فنڈز کی گھنٹی: الیکشن کمیشن کے گلے میں کابینہ ڈالے گی یا پارلیمان

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت اور کابینہ کنفیوژن کا شکار ہے کہ الیکشن کمیشن کو فنڈز جاری کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ خود سے کریں یا پھر پارلیمان سے کرائیں۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس گذشتہ روز وزیراعظم ہاؤس میں ہوا، اجلاس میں پنجاب کے عام انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کو فنڈز دینے کے حوالے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، نیوز 360 کے ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے بیشتر ارکان نے اس بات پر زور دے کر کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کی نفی نہ کی جائے۔

تفصیلات کے مطابق اتوار کے روز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق 14 مئی کو پنجاب میں انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو فنڈز جاری کرنے کا معاملہ پارلیمنٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

وزیرآباد حملہ کیس کے مدعی ایس ایچ او دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے

وفاقی کابینہ کا اجلاس اسلام آباد وزیراعظم ہاؤس میں ہوا جس میں وزیراعظم شہباز شریف نے ویڈیو لنک کے ذریعے لاہور سے شرکت کی۔ اجلاس دو گھنٹے تک جاری رہا ، اجلاس سے قبل کوئی ایجنڈا جاری نہیں کیا گیا تھا۔

اجلاس میں ریاض پیرزادہ، ساجد طوری، مولانا عبدالواسع، ہاشم نوتیزئی ، سردار ایاز صادق، خواجہ سعد رفیق، اعظم نذیر تارڑ، عطا تارڑ اور امیر مقام سمیت کابینہ کے بیشتر ارکان نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس کے دوران پنجاب الیکشن فنڈز کے علاوہ سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) بل 2023 سے متعلق معاملات کو حل کرنے کی حکمت عملی زیر بحث آئی۔

اجلاس میں تجویز دی گئی کہ سپریم کورٹ کے 4 اپریل کے فیصلے کی خلاف ورزی پر کسی بھی منفی فیصلے کو روکنے کےلیے فنڈز جاری کردینے چاہئیں۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے حکومت کو 10 اپریل تک  الیکشن کمیشن کو 21 ارب روپے جاری کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔

الیکشن کمیشن کو فنڈز دینے کے حوالے سے کابینہ ارکان کے چند ارکان نے مشورہ دیا کہ یہ صرف کابینہ کا مسئلہ نہیں ہے ، اس کو پارلیمنٹ لے جائیں اور جو پارلیمان فیصلہ کرے اس پر عمل درآمد کرلیا جائے۔ جس بنا پر وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا آج دوبارہ طلب کرلیا ہے ، جبکہ پارلیمان کا مشترکہ اجلاس چار بجے طلب کرلیا گیا ہے۔

اجلاس کے بعد ماڈل ٹاؤن لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی ملک محمد احمد خان نے کہا کہ حکومت کوئی غیر آئینی قدم نہیں اٹھائے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ کے دو فیصلے تھے: ایک چار ججز اور دوسرا تین ججز کا، اصل فیصلہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے نے بہت سے نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔

دریں اثناء کابینہ کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ اجلاس نے عدالت کے 4-3 کے فیصلے اور 6 اپریل 2023 کو قومی اسمبلی کی منظور کردہ قرارداد کے قانونی اور آئینی پہلوؤں پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

پریس ریلیز میں مزید کہا ہے کہ اس معاملے پر تفصیلی بحث اور مشاورت کے بعد، کابینہ نے متفقہ طور پر وزارت خزانہ کو ہدایت کی کہ وہ اس معاملے پر پارلیمنٹ سے رہنمائی حاصل کرنے بعد سمری تیار کرنے کے لیے وزارت قانون سے رہنمائی لے۔

گذشتہ روز کے اجلاس پر تبصرہ کرتے ہوئے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت اور کابینہ کنفیوژن کا شکار ہے کہ الیکشن کمیشن کو فنڈز جاری کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ خود سے کریں یا پھر پارلیمان سے کرائیں۔ کیونکہ کل اگر سپریم کورٹ 11 اپریل کو توہین عدالت لگاتی ہے تو اکیلے وزیراعظم جائیں گے یا پھر پوری پارلیمان جاتی ہے۔

متعلقہ تحاریر