حکمران اتحاد نے سپریم کورٹ کا 8 رکنی بینچ مسترد کردیا

پی ڈی ایم کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آئین پاکستان کی روشنی میں پارلیمان کے اختیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

حکمران اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے سپریم کورٹ کے 8 رکنی بینچ کو مسترد کردیا ہے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 پر ابھی صدر مملکت نے دستخط نہیں کیے ، اس وجہ سے یہ بل ابھی ایکٹ آف پارلیمنٹ میں کنورٹ نہیں ہوا ، اور سپریم کورٹ کی جانب سے سماعت کا اعلامیہ جاری کردیا گیاہے۔

حکمران اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی جانب سےجاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے متنازعہ بینچ تشکیل دینے کے اقدام کو مسترد کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے 

نیوکراچی انڈسٹریل ایریا کی تین فیکٹریوں میں آتشزدگی، 4 فائر فائٹرز جاں بحق

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جو بینچ تشکیل دیا گیا وہ انتہائی عجلت میں تشکیل دیا گیا ، اور اس بینچ کی ترجیحات عدل و انصاف کے منافی ہیں۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان بار کونسل کا بیان اس امر کا ثبوت ہے کہ یہ اقدام عدل و انصاف کے منفی ہے ، مروجہ عدالتی طریقہ کار اور طے شدہ اصولوں کے برخلاف ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ 12 اکتوبر 2019 کو لاہور میں آل پاکستان وکلاء کنونشن میں یہ قرار داد منظور کی گئی تھی کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل پارلیمان سے منظور کیا جائے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پارلیمان کے اختیار میں کسی بھی مداخلت کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آئین پاکستان کی روشنی میں پارلیمان کے اختیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائےگا۔

حکمران اتحاد کی جانب سے اعلامیہ جاری کرنے کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس خطاب کرتےہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ سپریم کا 8 رکنی بینچ عجلت میں تشکیل دیا گیا ، پارلیمنٹ اور سینیٹ سے منظور شدہ بل صدر مملکت نے واپس بھیج دیا ، ابھی بل پاس نہیں ہوا اور 8 رکنی بینچ تشکیل دے دیا گیا ہے۔

اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ وہ بل بینچ بنانے کے اختیارات کےبارے میں ہے، جو ابھی قانون بنا نہیں ہے، لیکن مان لیا کہ آپ نے اس پر کوئی بینچ بنایا ہے ، تمام تر روایات اور پروپرائیٹی کے جو اصول ہیں ، اس کے مطابق چیف جسٹس صاحب خود اس بینچ کی سربراہی نہ کریں ، کیونکہ مفادات کی  لڑائی ہے، انہی کے اختیارات سے متعلق بار کونسلز اور بار ایسوسی ایشنز کا مطالبہ تھا کہ قانون بننا چاہیے۔ پاکستان بھر کی بار کونسلز نے تشکیل دیئے گئے بینچ کو مسترد کردیا ہے۔

اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان بار کونسلز نے کہا ہے کہ اس مسئلے کو انا کا مسئلہ نہ  بنایا جائے۔ ان سب باتوں کے باوجود معاملات جس سمت میں جارہے ہیں ، اس سے ٹکراؤ کی کیفیت پیدا ہو جائے گی۔ پارلیمان کا آئین اور قانون کے تحت اختیار ہے کہ وہ پاکستان کے عوام کی بہتری کے لیے ، اداروں کی مضبوطی کے لیے ، اداروں کی اہمیت کو سامنے رکھتے ہوئے ، ان کی غیرجانب کو انشور کرنے کےلیے وہ قانون سازی کرے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ بل ابھی پارلیمان کے پاس ہے ، صدر پارلیمنٹ کا حصہ ہوتا ہے ، صدر صاحب نے اس بل پر ابھی اپنی فائنل رائے نہیں دی ہے، یعنی بل ابھی  پارلیمان کے پاس ہے اور سپریم کورٹ نے ٹیک اپ کرلیا ہے، اس بات کی وجہ سمجھ نہیں آئی کہ کیا آپ پارلیمنٹ کو اپنے اختیارات کے استعمامل سے روکنا چاہتے ہیں ، کیا یہ ممکن ہے اور کیا دنیا کے کسی ملک میں ایسا ہوا ہے ، یا ہم قبول کرلیں گے؟ بالکل نہیں۔ اس ادارے کے وقار کے لیے تمام سیاسی پارٹیوں نے جدوجہد کی۔ ہمیں امید تھی کہ جو ماحول تلخ ہو گیا ہے ، اس کی تلخی کو کم کرنے کے لیے ہم نے سوچا کہ غصےاور ہیجان میں فیصلے نہں ہوں گے۔ لیکن بینچ بنا کر پارلیمان کے اختیار کو روکنے کی کوشش بالکل قابل قبول نہیں ہے۔

متعلقہ تحاریر