ٹریفک حادثے میں جاں بحق مفتی عبدالشکور کا مقدمہ تھانہ سیکریٹریٹ میں درج
مقدمہ مرحوم کے دوست قاری قدرت اللہ کی مدعیت میں حادثاتی طور پر قتل، تیز رفتاری اور گاڑی کو نقصان پہنچانے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
اسلام آباد میں افسوسناک واقعے میں جاں بحق ہونے والے وزیر مذہبی امور مولانا عبدالشکور کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، مقدمہ جے یو آئی (ف) کے رہنما قدرت اللہ کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے ویگو ڈالے میں سوار تین افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر مذہبی امور مولانا عبدالشکور ہفتے کی رات اسلام آباد ٹریفک حادثے میں جان کی بازی ہار گئے تھے ، جس کا مقدمہ سیکرٹریٹ تھانے میں درج کر لیا گیا ہے۔ مقدمہ مرحوم وزیر کے دوست قدرت اللہ کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے ، مقدمے میں حادثاتی طور پر قتل، تیز رفتاری اور گاڑی کو نقصان پہنچانے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
وفاقی وزیر مذہبی مولانا عبدالشکور ٹریفک حادثے میں جاں بحق
مقبوضہ کشمیر کے سابق گورنر کے خطرناک انکشافات، پاکستانی ایوانوں میں قبرستان کی خاموشی
فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کے مطابق مفتی عبدالشکور تیز رفتار گاڑی کی زد میں آکر موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے، ویگو ویگن گاڑی کی ٹکر سے وفاقی وزیر کی سرکاری گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔
ٹریفک پولیس نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو ابتدائی رپورٹ جمع کرادی، جس میں کہا گیا ہے کہ حادثہ اوور اسپیڈنگ کے باعث پیش آیا، کیونکہ ڈبل کیبن گاڑی کی رفتار زیادہ تھی، اور بریک لگانے کا موقع بہت کم تھا۔
حادثے میں ملوث دونوں گاڑیوں کی ایئربیگ رپورٹ بھی جمع کرا دی گئی ہے، دونوں گاڑیوں کی باقیات کو سیکرٹریٹ تھانے منتقل کر دیا گیا ہے۔
قاری قدرت اللہ کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر کے متن کے مطابق مولانا عبدالشکور افطاری سے پہلے میرے گھر آئے تھے۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق سابق وفاقی وزیر مولانا عبدالشکور 8 بجکر 22 منٹ قاری قدرت اللہ کے گھر سے پارلیمنٹ لاجز کے لیے نکلے تھے۔
مقدمے کے متن کے مطابق رات دس بجے میرے خانسامہ کو سرکاری ڈرائیور نے واقعے کی اطلاع دی۔ مولانا عبدالشکور اپنی سرکاری گاڑی خود چلا رہے تھے۔ ویگو ڈالے نے مولانا عبدالشکور کی گاڑی کو غفلت اور لاپرواہی سے ہٹ کیا ، اور وزیر مذہبی امور موقع پر ہی دم توڑ گئے۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ہفتے کی رات اسلام آباد کے سیکٹر جی 6 میں واقع جامعہ دارالسلام میں مولانا عبدالشکور کی نماز جنازہ ادا کی۔
نماز جنازہ میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی، وزیر مواصلات مولانا اسد محمود، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، وزیر برائے انسداد منشیات نوابزادہ شازین بگٹی، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ فیصل کریم کنڈی، سینیٹر طلحہٰ محمود اور دیگر بھی موجود تھے۔ احسن مزاری، طارق فضل چوہدری، علی وزیر، انجینئر ضیاء الرحمان، صاحبزادہ اسجد محمود، مفتی عبدالواجد قریشی، آغا سید محمود شاہ، پیر مفتی اویس عزیز، مولانا شریف ہزاروی، مفتی ابرار احمد، مولانا عبید الرحمن اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
دریں اثناء مفتی شکور کی میت خیبرپختونخوا کے علاقے لکی مروت میں ان کے آبائی گاؤں تجبی خیل منتقل کردی گئی ہے جہاں ان کی نماز جنازہ آج دوپہر 2 بجے ادا کردی گئی۔









