پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی ایک دن انتخابات کرانے پر متفق، اسمبلیوں کی تحلیل اور تاریخ پر اختلاف

حکمران اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (PDM) اور حزب اختلاف پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیمیں عام انتخابات ایک ہی وقت میں کرانے کے لیے مذاکرات میں مشغول ہیں۔

حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کا تیسرا مرحلہ بھی کسی حتمی فیصلے پر پہنچے بغیر ختم ہو گیا ، دونوں فریقین کی تیسری نشست میں ملک بھر میں ایک ہی دن میں انتخابات کرانے پر اتفاق کرلیا گیا ، تاہم اسمبلیوں کی تحلیل کب ہو گی اور انتخابات کی تاریخ پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مذاکرات تو کسی جانب لگے نہیں اس کا مطلب ہے کہ سپریم کورٹ کا 14 مئی کو انتخابات کرانے کا حکم ابھی تک اسٹینڈ کررہا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پنجاب میں انتخابات کی تاریخ پر حکومتی ٹیم کے ساتھ مذاکرات کے تیسرے دور کے اختتام پر انتخابات اگست تک مؤخر کرنے پر اتفاق کرلیا ہے۔

اس بات کا انکشاف ذرائع نے اس وقت کیا جب پی ٹی آئی اور حکومتی مذاکراتی ٹیموں نے انتخابی گرہ کھولنے کےلیے تیسری بار ملاقات کی۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کو پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کرانے کا حکم دیا تھا تاہم حکومت نے فنڈز دینے سے انکار کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

بشریٰ بی بی کا مریم نواز پر ہتک عزت کا دعویٰ دائر کرنے کا فیصلہ، فواد چوہدری

حکمران اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (PDM) اور حزب اختلاف پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیمیں عام انتخابات ایک ہی وقت میں کرانے کے لیے مذاکرات میں مشغول ہیں، تاہم دونوں فریق اپنے اپنے موقف پر اٹل دکھائی دے رہے ہیں۔ کچھ معاملات پر دونوں جانب سے معاملے کو سلجھانے کے لیے لچک دکھائی جارہی ہے، جس کی وجہ سے معاملہ سمجھوتے کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔

شاہ محمود قریشی کی قیادت میں فواد چوہدری اور سینیٹر علی ظفر کی سربراہی میں تین رکنی وفد حکومتی ٹیم سے مذاکرات کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد پہنچا۔

حکومتی ٹیم میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار، وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق، وزیر تجارت نوید قمر، وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ طارق بشیر چیمہ اور قومی موومنٹ پاکستان (MQM-P) کی نمائندہ کشور زہرہ شامل ہیں۔

پی ٹی آئی ٹیم نے آٹھ نکاتی سفارشات کا مسودہ پی ڈی ایم ٹیم کے حوالے کیا۔ یہ مسودہ اپنے وکلاء کے ذریعے سپریم کورٹ کو بھی بھیجے گا۔

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اپوزیشن جماعت بجٹ کے بعد اگست کے دوسرے یا تیسرے ہفتے میں انتخابات کے انعقاد پر رضامند ہوگئی ہے۔

فریقین کی جانب سے لچک کا مظاہرہ

مذاکراتی دور کے بعد ہونے والی پریس کانفرنس کے دوران وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے تصدیق کی کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں جماعتوں نے اپنے موقف میں لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں مذاکراتی ٹیمیں اپنی اپنی پارٹی قیادت کو مذاکرات کی رپورٹ پیش کریں گی۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ تاہم ملک بھر میں ایک ہی دن میں انتخابات کے انعقاد کے لیے باہمی طور پر متفقہ تاریخ پر اتفاق نہیں ہوسکا ہے۔

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ نگراں سیٹ اپ کے تحت ملک بھر میں انتخابات ایک ہی دن ہونے چاہئیں۔

دریں اثناء حکومتی ٹیم کے رہنما سینیٹر یوسف رضا گیلانی نے مذاکرات کے دوران ہونے والی پیش رفت کو تسلی بخش قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں نے انتخابی نتائج کو قبول کرنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ انتخابات کے بعد کسی بھی افراتفری سے بچا جا سکے۔

حکومتی ٹیم نے مذاکرات کے اگلے دور کے لیے کسی مخصوص تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔

پی ٹی آئی پیچھے ہٹ گئی

مذاکرات کے بعد میڈیا سے الگ سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ وہ ‘مثبت پیش رفت’ کی خاطر حکومت کو مزید وقت دینے کے لیے تیار ہیں۔

پی ٹی آئی کے مطالبات کو دہراتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت 14 مئی کو پنجاب اور اس کے بعد خیبر پختونخوا (کے پی) میں انتخابات چاہتی ہے۔

تحریک انصاف کے وائس چیئرمین کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے مذاکرات کے دوران 14 مئی سے پہلے سندھ اور بلوچستان اسمبلیاں تحلیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف 90 دن کے بعد ہونیوالے انتخابات کو آئینی تحفظ دینے کیلئے ایک بار پھر قومی اسمبلی میں جانے کو تیار ہے، تحریک انصاف آئین میں ترمیم کیلئے قومی اسمبلی میں جائے گی، لیکن یہ ترمیم صرف ایک بار کیلئے ہوگی کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ یہ ہمیشہ کی ریت بن جائے۔

پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ مذاکراتی عمل کو تاخیری حربے کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہیے کیونکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین کے مطابق ہے لہذا اُس پر عمل درآمد کریں۔

پی ٹی آئی رہنما نے تصدیق کی کہ پی ڈی ایم اور ان کی ٹیم نے ابھی تک اسمبلیوں کی تحلیل اور پولنگ کے دن کی تاریخوں پر اتفاق نہیں کیا ہے۔

متعلقہ تحاریر