مریم نواز کے لیک انٹرویو کا تنازع اینکر منصور علی خان کی نوکری نگل گیا
سما ٹی وی کی انتظامیہ نے حکمراں جماعت اور مریم نواز کے شدید دباؤ پر نوٹس جاری کیے بغیر جبری استعفے پر مجبور کیا، منصور علی خان کی نیوز 360 سے گفتگو

مسلم لیگ ن کی سینئر نائب صدر اور چیف آرگنائزرمریم نواز کے انٹرویو کے حذف شدہ حصے لیک ہونے کا تنازع اینکرپرسن منصور علی خان کی نوکری نگل گیا۔
سما ٹی وی کی انتظامیہ نے حکمراں جماعت اور مریم نواز کے دباؤ پر منصور علی خان سے جبری استعفیٰ لے لیا۔
یہ بھی پڑھیے
مریم نواز کا منصور علی کو انٹرویو ، ڈھول کا پول کھل گیا
عمران خان کے الزامات پر جنرل (ر) قمر باجوہ کا وضاحتی بیان بزبان منصور علی خان
اینکرپرسن منصور علی خان نے نیوز 360 سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ سما کی انتظامیہ پر ن لیگ اور مریم نواز کا بے حد دباؤ تھا، انہیں پیشگی نوٹس جاری کیے بغیر جبری استعفے پر مجبور کیا گیا،اینکر پرسن جلد اس حوالے سے اپنے موقف کے ساتھ سامنے آئیں گے۔
واضح رہے کہ انٹرویو کے حذف شدہ حصے اینکر کے ذاتی دفتر سے لیک ہوئے تھے اور ان کا سما ٹی وی کی انتظامیہ سے کوئی لینا دینا نہیں تھا تاہم مسلم لیگ ن اور مریم نواز کا چینل کی انتظامیہ پر منصور علی خان کیخلاف کارروائی کیلیے بے حد دباؤ تھا۔
تاہم انڈیپنڈنٹ اردو کے مطابق معروف اینکر پرسن منصور علی خان نے کہا ہے کہ انہیں نکالا نہیں گیا بلکہ وہ خود کسی دوسرے چینل پر جا رہے ہیں۔ اینکرپرسن نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے نجی چینل سما ٹی وی چھوڑ دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ انہیں ایک بہتر آفر ہوئی، جسے انہوں نے قبول کرلیا اور سما ٹی وی کو اپنا استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ سما ٹی وی پر اختتام ہفتہ پر شوز کرتے تھے جبکہ نئی جگہ ہفتے کے دوران پرائم ٹائم میں شو کریں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ ابھی وہ پہلے سے طے شدہ چھٹیوں پر ہیں اور واپس آ کر اپنے نوٹس کی میعاد پوری کریں گے۔انڈیپنڈنٹ اردو کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کے لیک انٹرویو کے معاملے کا ان کے چینل چھوڑنے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔









