گرفتاری کے وقت عمران پر کوئی تشدد نہیں کیا گیا، رانا ثناء اللہ

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کو قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے عمران خان کی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ کو کسی قسم کا تشدد کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔

ایک ٹویٹ میں وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا کہ سابق وزیراعظم عمران خان متعدد نوٹسز جاری ہونے کے باوجود احتساب عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے

وارنٹ ہے تو میرے پاس لے آئیں گرفتاری کے لیے تیار ہوں، عمران خان

عمران خان پر قاتلانہ حملہ: معاملہ اب عدالت میں حل ہوتو بہتر ہے

رانا ثناء اللہ نے یہ بھی کہا کہ انہیں قومی خزانے کو نقصان پہنچانے پر گرفتار کیا گیا تھا۔

اینکر پرسن ندیم ملک کے سوال کا جواب دیتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ‘سارا معاملہ دستاویزات میں ہے’۔

گرفتاری کا دفاع کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ اگر عمران خان تحقیقات میں تعاون کرتے تو دستاویزی کیس کو گرفتاری کی ضرورت کے بغیر عدالت میں پیش کیا جا سکتا تھا۔

رانا ثناء اللہ نے معاملے کو درست قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تحقیقات میں قومی خزانے کو 50 سے 60 ارب روپے کا واضح نقصان ہوا ہے۔

وفاقی وزیر نے یہ بھی الزام لگایا کہ دوسروں پر کرپشن کے الزامات لگانے والے عمران خان خود کرپٹ پریکٹسز میں ملوث رہے ہیں، توشہ خانہ میں بھاری رقوم وصول کرتے رہے ہیں۔

متعلقہ تحاریر