عمران خان کی گرفتاری کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے جاری

چیئرمین تحریک انصاف کی گرفتاری کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں پی ٹی آئی کارکنان اور رہنماؤں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کیے جارہے ہیں۔

القادر ٹرسٹ کیس اور توشہ خانہ کیس کے سلسلے میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی گرفتاری کے بعد پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے اپنے ورکرز اور کارکنان سے پرزور اپیل کی ہے وہ سڑکوں اور چوراہوں پر نکلیں اور اپنے لیڈر کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کریں۔

پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر نے اپنے ٹویٹر ہینڈل پر پیغام جاری کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "عمران کی گرفتاری "قابل قبول نہیں” اور زور دے کر کہا کہ پی ٹی آئی کے سربراہ "ہماری ریڈ لائن” ہیں۔ انہوں نے قوم سے عمران کی گرفتاری کے خلاف سڑکوں پر آنے کی اپیل کی ہے۔”

اسد عمر نے معزول وزیراعظم کی گرفتاری پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے سب سے بڑے سیاسی رہنما کو گرفتار کر لیا گیا ہے، پوری دنیا کو دکھایا جا رہا ہے کہ ملک میں کوئی قانون باقی نہیں رہا۔

اسد نے مزید کہا، "شاہ محمود قریشی کی سربراہی میں 6 رکنی کمیٹی، جو عمران خان نے بنائی تھی، لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔”

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر فواد چوہدری نے کارکنوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ "اسلام آباد ہائی کورٹ پر حملہ ہوا ہے، عمران خان کی گرفتاری عدلیہ پر حملے کے مترادف ہے۔”

اس سے پہلے بھی انہوں  نے اپنے ایک ٹوئٹ کے ذریعہ عوام عمران خان کی گرفتاری سے آگاہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ رینجرز نے اسلام آباد ہائی کورٹ پر قبضہ کرلیا ہے ، اور وکلاء کو "تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے”۔

انہوں نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا تھا کہ "عمران خان کی گاڑی کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے”۔

پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے عمران کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے لکھا کہ عمران خان کی گرفتاری قابل قبول نہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے سینئر ترین رہنما شفقت محمود نے اپنے بیان میں عمران خان کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے سربراہ کے ساتھ بھی "بدتمیزی اور بدسلوکی” کی گئی۔

یہ بھی پڑھیے

گرفتاری کے وقت عمران پر کوئی تشدد نہیں کیا گیا، رانا ثناء اللہ

عدالت عظمیٰ  نے ارشد شریف قتل کیس کی اسپیشل جے آئی ٹی رپورٹ مسترد کردی

انہوں نے کہا ہےکہ ملک میں قانون کی حکمرانی ختم ہو چکی ہے۔ یہ فاشزم کا عروج ہے اور بالکل ناقابل قبول ہے۔

منگل کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر سے عمران خان کی گرفتاری کے خلاف اسلام آباد ، لاہور ، پشاور ، اور کوئٹہ سمیت پاکستان کے دیگر شہروں میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنان اور حامیوں کی ایک بڑی تعداد احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئی۔ پارٹی کارکنان کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

کارکنان نے احتجاج کرتے ہوئے اسلام آباد ، کراچی ، لاہور ، پشاور اور کوئٹہ کے تمام بڑی بڑی سڑکوں کو بلاک کردیا ہے جس کی وجہ سے ٹریفک کا نظام بری طرح سے متاثر ہورہا ہے۔

مختلف میڈیا چینلز کی رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی کے کارکنان انصاف ہاؤس شاہراہ فیصل کراچی پر جمع ہونا شروع ہوئے تو پولیس کی بھاری نفری انہیں منتشر کرنے کے لیے پہنچ گئی۔

لاہور میں پی ٹی آئی کے کارکنان کی بڑی تعداد لبرٹی چوک ہوگئی اور انہوں نے حکومت کی مخالفت میں نعرے بازی شروع کررکھی ہے ۔ مظاہرین کی جانب سے عمران خان کو فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

گلگت بلتستان سے مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق عمران خان کی گرفتاری کے خلاف پی ٹی آئی کے کارکنان اور حامی کی بری تعداد صدیق اکبر چوک پر جمع ہے اور اپنے لیڈر کے حق میں نعرے بازی کررہے ہیں۔

مردان میں پی ٹی آئی کے کارکنان کالج چوک پر جمع ہوئے اور احتجاج کررہے ہیں۔

کے پی میں، لوئر چترال میں پی ٹی آئی کے کارکنان اور حامی سڑکوں پر نکل آئے، ٹائر جلا کر سڑکیں بلاک کر دیں۔

متعلقہ تحاریر