عمران خان کا فوجی قیادت پر براہ راست الزام: ترجمان پاک فوج کا تین دنوں میں دوسرا بیان

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ فوج کو تقسیم کرنے کا خواب ، خواب ہی رہے گا۔ کسی نے استعفیٰ نہیں دیا اور نہ ہی کسی نے حکم عدولی کی ہے۔

سابق وزیراعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی جانب آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے خلاف بیان کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کھل کر آرمی چیف کے حمایت میں سامنے آگئے ہیں جبکہ ترجمان آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ جنرل عاصم منیر اور سینئر فوجی قیادت جمہوریت کو سپورٹ کرتی ہے اور کرتی رہے گی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ معاملہ بہت حساس ہے جس کی وجہ سے ترجمان پاک فوج کو تین دنوں میں دوسرا بیان جاری کرنا پڑا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا بیان

عمران خان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران نیازی ایماندار اور حافظ قرآن آرمی چیف سے ڈرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے 

حکومت نے دہشتگردوں سے مذاکرات کے امکان کو مکمل طور پر مسترد کردیا

وزیراعظم نے جنرل سید عاصم منیر کے خلاف عمران خان کے توہین آمیز ریمارکس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بدنیتی کے سوا کچھ نہیں۔ وزیراعظم کے مطابق، خان کا بیان پاک فوج کے تئیں ان کی نفرت کا مزید ثبوت ہے اور 9 مئی کے سانحہ میں ان کے کردار کا اعتراف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ وہی ذہنیت ہے جس نے محب وطن فوجی اہلکاروں پر قتل کا غلط الزام لگایا، غیر ملکی سازشوں کی من گھڑت کہانیاں بنائیں۔

انہوں نے کہا عمران خان کا بیان ملکی دشمنی ہے اور دہشت گردی کے ماسٹر مائنڈز کے حقیقی ریاست مخالف عزائم کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ بیان اس بات کا اعتراف ہے کہ 9 مئی کا سانحہ عمران نیازی کے حکم پر ہوا۔

شہباز شریف نے اپنے  بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ عمران نیازی کا حالیہ بیان شہداء اور غازیوں کی یادگاروں کی بے حرمتی کے ساتھ ساتھ حساس تنصیبات اور عمارتوں پر حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث ہونے کا ثبوت ہے۔

ترجمان پاک فوج کا بیان

جنرل سید عاصم منیر کے خلاف ان کا غصہ یہ تھا کہ وہ بطور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی عمران نیازی، ان کی اہلیہ فرح گوگی اور پی ٹی آئی کی سینئر قیادت کی بد ترین کرپشن سے آگاہ تھے۔

دوسری جانب پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل احمد شریف نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج چیف آف آرمی اسٹاف (سی او اے ایس) جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں متحد ہے اور ملک میں مارشل لاء لگانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ .

جمعہ کی رات ایک نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فوج اندرونی یا بیرونی پروپیگنڈے کی پرواہ کیے بغیر آرمی چیف کی قیادت میں متحد رہے گی۔ ڈی جی نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ فوج اس وقت متحد ہے اور مستقبل میں بھی متحد رہے گی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ فوج کے کسی رکن نے استعفیٰ نہیں دیا اور نہ ہی حکم عدولی کی، فوج کو تقسیم کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ آرمی چیف سمیت عسکری قیادت جمہوری اقدار کے ساتھ کھڑی ہے، فوج جمہوریت کی حمایت کرتی ہے اور کرتی رہے گی۔

9 مئی کے واقعات کئی سوالات چھوڑ گئے

تاہم عمران خان کا آرمی چیف سے متعلق اور 9 مئی کو چیئرمین تحریک انصاف کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پھوٹنے والے ہنگامے اپنے پیچھے کئی سوالات چھوڑ گئے ہیں۔

سوال نمبر 1: وزیراعظم شہباز شریف نے نیشنل سیکورٹی کمیٹی (قومی سلامتی کمیٹی) کی میٹنگ جمعہ کے روز طلب کی تھی وہ میٹنگ کہاں گئی۔ ایسی کیا ایمرجنسی ہو گئی تھی کہ میٹنگ منسوخ کرنا پڑی؟۔

سوال نمبر 2: شرپسند عناصر راولپنڈی کے سب سے حساس ترین علاقے جی ایچ کیو کے گیٹ نمبر ون سے داخل ہو گئے اور انہوں نے جو ممکن ہوسکتا تھا شر پھیلایا۔ شرپسندوں کو کیوں نہیں روکا۔ یہ فوج کا سب سے اہم ترین ادارہ ہے۔ جہاں فوج کی ساری حکمت عملی تیاری کی جاتی ہے۔ وہاں پر موجود فوج نے شرپسندوں کو کیوں نہیں روکا؟۔

سوال نمبر 3: شرپسند لاہور کے کور کمانڈر ہاؤس میں داخل ہو گئے۔ میڈیا سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ کور کمانڈر لاہور ، ان کے گارڈز اور فوجی جوان اس وقت کور ہاؤس میں موجود تھے۔ سوال یہ ہے کہ انہیں شرپسندوں کے خلاف ایکشن سے کس نے روکا؟۔

سوال نمبر 4: 9 مئی کو رونما ہونے والے واقعات کے بعد کور کمانڈر لاہور کو تبدیل کردیا گیا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل عاصم بیگ کو کور کمانڈر لاہور تعینات کردیا گیا ہے۔ تاہم نیوز 360 کو ذرائع نے بتایا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم بیگ نے عہدہ لینے سے معذرت کرلی ہے۔ سوال یہ ہے کہ عاصم بیگ عہدے کا چارج لینے سے کیوں گریزاں ہیں؟۔

متعلقہ تحاریر