وزیردفاع خواجہ آصف نے ملک کی 4 بڑی عدالتوں پر اعتراضات اٹھا دیئے

خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے کہ اگر عدالتیں آئین اور قانون کے تحت فیصلے نہیں کرتیں تو مجھ پر یہ فرض نہیں ہے کہ میں ان عدالتوں کی عزت کروں۔

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ جن لوگوں نے قانون کی عمل داری کرانی ہے اور اگر وہ اپنی ذمہ پوری نہیں کریں گے تو ہم پر بھی یہ  بات لاگو نہیں ہوتی کہ ہم ان کی عزت کریں۔ ان کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خواجہ آصف صاحب نے سپریم کورٹ ، تمام ہائی کورٹس اور ماتحت عدالتوں پر عدم اعتماد کردیا ہے۔

جیو نیوز کے پروگرام "کیپیٹل ٹاک” میں اینکر پرسن حامد میر کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا کہنا تھا کہ آئین ہم نے بنانا ہے قانون ہم نے بنانا ہے ، مگر جن لوگوں نے قانون کو لاگو کرنا ہے وہ جب اپنی مرضی کی تشریحات کررہے ہوں ، اپنی مرضی سے اسے توڑ موڑ رہے ہوں ، بلکہ قانون کو اپلائی نہ کررہے ہوں ، اپنی مرضی اور اپنی خواہشات کو لاگو کررہے ہوں ، تو پھر آپ ہمیں کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ” We Should Play By The Rules”۔

یہ بھی پڑھیے 

اسلام آباد ہائی کورٹ کا شاہ محمود قریشی اور شہریار آفریدی کی اہلیہ کو رہا کرنے کا حکم

سپریم کورٹ کا مولانا ہدایت الرحمان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم

اس پر اینکر پرسن حامد میر نے سوال کیا کہ اس کا مطلب ہے کہ آپ پورے انصاف کے سسٹم پر عدم اعتماد کررہے ہیں۔ جس پر خواجہ محمد آصف کا کہنا تھا میں قطعی پر پورے جوڈیشری کے نظام پر عدم اعتماد نہیں کررہاہے۔ مشکل ترین حالات میں بھی بڑے بڑے باوقار لوگ موجود رہے ہیں۔ جب جوڈیشری میں ایسے لوگ آجائیں جب پر ان کے ذاتی مفادات حاوی ہو جائیں ، ان کی  کرسی کی عزت اور وقار پس پشت چلے جائے ، یا وہ غیرمتعلقہ ہوجائیں اور ان کی ذات کی خواہشات متعلقہ ہوجائیں ، پھر مجھ پر فرض نہیں ہے کہ میں ان کی عزت کروں۔

اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے خواجہ محمد آصف کا کہنا تھا جب تک وہ قانون ، قاعدے اور آئین کے تحت فیصلے کرتے ہیں مجھ پر فرض ہے کہ میں ان کی عزت کروں۔ میں کورٹ میں ان کے سامنے ان کی تکریم بھی کروں گا۔ ہر قسم کی عزت کروں گا۔ لیکن اگر وہ اپنی کرسی ، اپنے ادارے ، اپنے آئین اور اپنے قانون کا پاس نہیں کرتے تو میں بھی ان تمام بندشوں سے آزاد ہو جاتا ہوں ، جن بندشوں کا ہمیں کہا جاتا ہے۔

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا کہنا تھا کہ مگر جب شہداء اور غازیوں کی یادگاروں پر حملہ ہوتا ہے ، آپ ان کی حفاظت نہیں کرتے ، اور حملہ کرنے  والوں کو ضمانتیں دیتے ہیں ، ایسے آٹھ دس ججز پر الزامات کی بھرمار ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خواجہ محمد آصف کے بیان سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں کہ ایک یہ کہ اُنہیں عدالتوں پر اعتماد نہیں ہے دوسرا یہ کہ عدالتیں حق پر فیصلے نہیں دیتی۔

متعلقہ تحاریر