اپریل میں 60 فیصد ٹاک شوز سیاست کی نذر ہوگئے، گیلپ کا تجزیاتی جائزہ
زیر مطالعہ 10 پروگرامات میں ملک کی سرکردہ 10 میں صرف 2 جماعتوں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کو ہی سب سے زیادہ بالترتیب 38 فیصد اور 29 فیصد نمائندگی دی گئی۔

پاکستان کی معیشت کو دیوالیہ پن کے دہانے پر پہنچانے والی سیاست اہم قومی مسائل سے میڈیا کی توجہ ہٹانے کابھی سبب بن گئی۔اپریل کے مہینے میں پاکستان کے 6 سرکردہ نجی ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والے ٹاک شوز کی 60 فیصد توجہ کا محور سیاسی موضوعات رہے جبکہ قانونی معاملات،صحت ،معیشت،طرز حکمرانی اورسماجی موضوعات نہ ہونے کے برابر بات کی گئی۔
اس بات کا انکشاف گیلپ پاکستان نے اپنے حالیہ تجزیاتی جائزے میں کیا ہے۔ جس میں جیو،اے آروائی ،دنیا، ایکسپریس نیوز،سما اور بول ٹی وی پر اپریل کے مہینے میں پرائم ٹائم میں نشر ہونے والے پروگرامز کا جائز لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستان میں سب کو یکساں حقوق اور تحفظ حاصل نہیں، گیلپ اینڈ گیلانی سروے
پنجاب میں بیروزگاری کی شرح سات فیصد تک جا پہنچی، گیلپ اور پرائیڈ کا تجزیہ
گیلپ پاکستان کے مطابق تجزیاتی جائزے کے دوران پروگرام اعتراض ہے،ندیم ملک لائیو، آف دی ریکارڈ، دنیا کامران خان کے ساتھ، الیونتھ آور، آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ، کیپیٹل ٹاک، ایسا نہیں چلے گا اور کل تک جاوید چوہدری میں زیر بحث آنے والے موضوعات کا احاطہ کیا گیا۔
Gallup Pakistan analyzed the content of 10 talk shows across 6 television channels in April 2023; politics was discussed with around 60% frequency, while the economy, governance, and health were each discussed with 6% frequency or less.
For more: https://t.co/tGCY0KhfwE pic.twitter.com/w4WDnPN4pu
— Gallup Pakistan (@GallupPak) June 1, 2023
تجزیاتی جائز ےمیں یہ بات سامنے آئی کہ ان پروگرامات میں زیربحث آنے والے بیشتر(59فیصد) موضوعات سیاسی تھے جبکہ دوسرے نمبر پر (19فیصد)قانونی مسائل سے متعلق موضوعات زیر بحث آئے جبکہ صحت سے متعلق موضوعات پر ایک فیصد، معیشت پر 6 فیصد، طرز حکمرانی پر 4 فیصد، سماجی موضوعات پر ایک فیصد جبکہ 10فیصد گفتگومتفرق موضوعات پر کی گئی۔

اپریل میں زیربحث آنے والے بیشتر موضوعات الیکشن اور عدالتی نظام سے متعلق تھے۔ان پروگرامات میں ملک کی سرکردہ 10 میں صرف 2 جماعتوں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کو ہی سب سے زیادہ بالترتیب 38 فیصد اور 29 فیصد نمائندگی دی گئی۔
زیرمطالعہ 10پروگرامات میں مجموعی طور پر 161 انفرادی مہمانوں جبکہ 319 مہمانوں نے بار بار شرکت کی۔اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدرمحمد شعیب شاہین نے بطور مہمان سب سے زیادہ (7 فیصد) اور اس کے بعدمسلم لیگ ن سے تعلق رکھنےوالے وفاقی وزیرخرم دستگیر نے (6فیصد) ان پروگرامات میں شرکت کی۔

پروگرام دنیا کامران خان کے ساتھ میں سب سے زیادہ 43 منفرد مہمانوں نے شرکت کی۔ بول ٹی وی پر65 فیصد نمائندگی کے ساتھ تحریک انصاف سرفہرست رہی جبکہ جیو پر 66فیصد نمائندگی کے ساتھ ن لیگ سب آگے رہی۔
جیو ٹی وی پر نشر ہونے والے پروگرامات” کیپیٹل ٹاک اور آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“میں ن لیگ سب سے نمایاں رہی جبکہ بول نیوز پر نشر ہونے والے پروگرام”ایسا نہیں چلے گا“میں تحریک انصاف نمایاں رہی ۔









