فوجی عدالتوں کے خلاف دائر درخواستوں کامعاملہ: 9 رکنی لارجر بینچ ٹوٹنے کے بعد 7 رکنی بینچ تشکیل

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق مسعود نے خود کو سپریم کورٹ کے لارجر بینچ سے الگ کرلیا۔

فوجی عدالتوں کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے لیے تشکیل دیا گیا سپریم کورٹ کا 9 رکنی لارجر بینچ ٹوٹ گیا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق مسعود نے خود کو بینچ سے الگ کرلیا ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے مزید سماعت کے لیے 7 رکنی بینچ تشکیل دے دیا ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان میں فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے ساتھ ہی لارجز بینچ ٹوٹ گیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بینچ میں بیٹھے سے معذرت کرتے ہوئے چلے گئے ، جبکہ جسٹس سردار طارق مسعود نے بھی بینچ اعتراض کرتے ہوئے سماعت سے انکار کردیا۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 9 رکنی لارجر بینچ نے سماعت شروع کی۔ بینچ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر علی اکبر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک شامل تھیں۔

سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے وکلاء کو دیکھتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آپ کو دیکھ کر خوشی ہوئی۔

جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں کچھ  تحفظات کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔ اس پر وکیل لطیف کھوسہ کا کہنا تھا ہمیں خوشی کا اظہار تو کرلینے دیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے آپ خوشی کا اظہار باہر جاکر کرلیجیئے گا ، یہ کوئی سیاسی فورم نہیں ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ قوانین میں ایک  قانون پریکٹس اینڈ پروسیجر کا بھی ہے۔ اس قانون کو بل کی سطح پر روک دیا گیا ، اس قانون کے مطابق اس بینچ کی تشکیل ایک میٹنگ کے ذریعے ہونی تھی مگر ایسا نہیں ہوا۔ کل شام مجھے کاز لسٹ دیکھ کر حیرت ہوئی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دینے کے بعد خود کو بینچ سے الگ کرلیا جبکہ جسٹس سردار طارق مسعود نے قاضی فائز عیسیٰ کے اعتراضات کو اپناتے ہوئے خود کو بینچ سے الگ کرلیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ مجھے تعجب ہوا کہ ایک سرکلر جاری کرکے آرڈر کو نظرانداز کرنے کا کہا گیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ میں نے 8 اپریل 2023 کو ایک نوٹ لکھا تھا ، یہ نوٹ بھی ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا ، 16 مئی کو مجھ سے دریافت کیا گیا کہ کیا میں چیمبر ہی کروں گا؟ میں بتانا چاہتا ہوں کہ آج میں چیمبر ورک پر کیوں گیا؟

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ یہ بینچ کیسے تشکیل دیا گیا۔ جب تک پریکٹس اینڈ پروسیجر پر فیصلہ جاری نہیں ہوتا ، بینچ کا حصہ نہیں بن سکتا۔ بینچ سے اٹھ رہا ہوں مگر سماعت سے انکار نہیں کررہا۔

نیا بینچ تشکیل

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق مسعود کی جانب سے خود کو بینچ سے الگ کرنے کے بعد کیس کی مزید سماعت کے 7 رکنی بینچ تشکیل دے دیا۔ بینچ کیس کی مزید سماعت ڈیڑھ بجے کرے گا۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکلاء کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آپ لوگ ابھی تشریف رکھیں ہم دیکھتے ہیں کہ کیا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کے روایت کے مطابق 2 سینئر ججز کے اعتراض کے بعد تکرار نہ کریں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم یہ بینچ آئین اور حلف کے مطابق بنایا ہے۔

فوجی ٹرائل کے خلاف چار درخواستیں

فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل کے خلاف 4 درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کی گئیں ، جب کہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے ان میں سے کسی پر اعتراض نہیں کیا۔

ایڈووکیٹ حامد خان، ایڈووکیٹ اعتزاز احسن، پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان اور سابق چیف جسٹس (ر) جواد ایس خواجہ جیسی اہم شخصیات نے فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی ہیں۔

متعلقہ تحاریر