عمران خان کیلئے بڑا ریلیف: اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ کیس ناقابل سماعت قرار دے دیا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس میں فوجداری کارروائی برقرار نہیں رکھی جاسکتی۔

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو ایک اور ریلیف مل گیا ہے ، اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس ناقابل سماعت قرار دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے درخواست کی تھی کہ ان کے خلاف توشہ خانہ کیس کو ناقابل سماعت قرار دیا جائے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق نے منگل کی صبح محفوظ کیا گیا فیصلہ سنادیا۔

یہ بھی پڑھیے

توہین عدالت کیس: شیریں مزاری کی گرفتاری پر آئی جی اسلام آباد اکبر نواز کے معصومانہ جوابات

لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز اور انکی اہلیہ ام حسان کے خلاف دہشتگردی کے مقدمات درج

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس میں فوجداری کارروائی برقرار نہیں رکھی جاسکتی۔

واضح رہے کہ عمران خان نے پیر کے روز ایک درخواست دائر کی تھی جس میں جسٹس عامر فاروق سے استدعا کی گئی تھی کہ وہ ’انصاف اور غیر جانبداری‘ کے مفاد میں میرے (عمران خان) خلاف مقدمات کی سماعت سے خود کو الگ کریں۔

یہ بھی یاد رہے کہ اس سے قبل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے توشہ خانہ کیس کو قابل سماعت قرار دیا تھا۔ سیشن عدالت نے توشہ خانہ کیس کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے عمران خان پر فرد جرم عائد کی تھی۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں توشہ خانہ کیس کا پانچ سے چھ ماہ تک ٹرائل ہوا تھا۔ اور پھر فرد جرم بھی عائد کردی گئی تھی۔

بعدازاں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی لیگل ٹیم نے سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کردی تھی۔ جس کا فیصلہ آج چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق سے سنا دیا ہے۔

توشہ خانہ ریفرنس

اپریل 2022 میں جاری ہونے والی سرکاری دستاویزات میں اس بات کا انکشاف ہوا تھا کہ سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ (بشریٰ بی بی) نے ایک پیسہ بھی ادا کیے بغیر کروڑوں روپے مالیت کے 52 قیمتی تحائف اپنے پاس رکھے تھے۔

اگست 2018 سے دسمبر 2021 کے درمیان موصول ہونے والے تحائف کی اس خفیہ فہرست میں یہ بھی انکشاف ہوا تھا کہ عمران خان نے اپنے دور حکومت میں ٹیکس حکام سے معلومات چھپائی تھیں۔

توشہ خانہ، کابینہ ڈویژن کے تحت ایک محکمہ جو حکمرانوں، اراکین پارلیمنٹ اور حکام کو غیر ملکی سربراہان مملکت اور معززین کی طرف سے دیے گئے قیمتی تحائف کے ریکارڈ کو "مین ٹین” کرتا ہے۔

اس وقت کی حکومت نے دلیل دی تھی کہ توشہ خانہ کے بارے میں کسی بھی قسم کی معلومات کو ظاہر کرنے سے بین الاقوامی تعلقات میں ممکنہ طور پر تناؤ آ سکتا ہے۔

توشہ خانہ تحائف کی طویل فہرست ہے جو عمران خان اور ان کی اہلیہ نے اپنے پاس رکھے تھے۔ انہوں نے تمام قیمتی تحائف کی قیمت کا صرف ایک حصہ ادا کیا تھا۔ پرتعیش اشیاء سات شاندار رولیکس گھڑیاں، دیگر مہنگے ٹائم پیس کے ساتھ، سونے اور ہیرے کے زیورات جن میں متعدد ہار، بریسلیٹ، انگوٹھیاں اور ہیروں کی زنجیریں، ایک مہنگا قلم، لاکھوں مالیت کے کف لنکس، ڈنر سیٹ، پرفیوم اور یہاں تک کہ عود کی خوشبو بھی شامل تھی۔

ملنے والا سب سے قیمتی تحفہ 85 ملین روپے کی ایک قابل ذکر گراف کلائی گھڑی تھی، جسے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے عمران خان کو ان کے دور حکومت میں پیش کیا تھا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سابق وزیر اعظم نے محض 20 ملین روپے دے کر اس گھڑی ملکیت حاصل کرلی تھی۔ جوکہ اصل قیمت سے 65 ملین روپے کم تھی۔

متعلقہ تحاریر