سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں سے متعلق کیس کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دے دیا
چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں 6 رکنی بنچ 18 جولائی سے کیس کی سماعت کرے گا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے لیے نیا لارجر بینچ تشکیل دے دیا ہے۔
نئے بینچ کی قیادت چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کریں گے اور اسے 18 جولائی سے 20 جولائی کے لیے لسٹ کیا گیا ہے۔
بنچ میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس مظاہر علی نقوی اور جسٹس عائشہ ملک بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
القادر ٹرسٹ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں 19 جولائی تک توسیع
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ایک سال میں 8 ہزار سے زائد مقدمات کو نمٹایا
وزیر اعظم اور بیٹوں کے خلاف منی لانڈرنگ کیس: وزارت داخلہ کا عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کا فیصلہ
رجسٹرار آفس نے کیس میں تمام فریقین کو سماعت کے لیے مطلع کر دیا ہے۔
مقدمے کی آخری کارروائی ججوں کے گرمیوں کی چھٹیوں پر جانے سے پہلے شیڈول کی گئی ہے۔ گزشتہ کارروائی میں اٹارنی جنرل منصور اعوان نے عدالت کو بتایا تھا کہ مجموعی طور پر 102 شہریوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔
گزشتہ سماعت ختم ہونے سے قبل چیف جسٹس نے امید ظاہر کی تھی کہ اس دوران فوجی عدالتوں میں کوئی ٹرائل شروع نہیں ہوگا۔
تاہم عدالت نے عام شہریوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں بھیجے جانے کے خلاف حکم امتناعی جاری کرنے سے انکار کردیا تھا۔
اس کارروائی میں عدالت کے درمیان تقسیم کے شواہد بھی دیکھے گئے کیونکہ سینئر جج قاضی فائز عیسیٰ نے فوری طور پر کارروائی سے خود کو الگ کر لیا تھا۔









