معیشت خطرے سے نکل گئی ہماری حکومت آئندہ ماہ ختم ہو جائے گی، وزیراعظم

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کا یہ دعویٰ کہ معاشی بحران ہمیشہ کے لیے ٹل گیا ہے سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ ہمیں تو صرف قرض ہی ملا ہے ، ہم ذاتی طور پر کیا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم ڈیڑھ سال کے قلیل عرصے میں اپنی اجتماعی حکمت اور دانشمندانہ پالیسیوں کی بدولت پچھلی حکومت کی طرف سے بچھائی گئی اقتصادی بارودی سرنگوں کا ملبہ صاف کر دیا۔ ہم مشکل وقت سے نکل گئے ہیں اور معاشی بحران ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کا یہ دعویٰ کہ ملک کو معاشی بحران سے ہمیشہ کے لیے نکال لیا ہے سمجھ سے بالاتر ہے ، کیونکہ ہمیں صرف قرض ہی ملا ہے اور ہم نے کیا ایسا کارنامہ سرانجام دیا ہے کہ ہم یہ کہہ سکیں کہ معاشی بحران ہمیشہ کےلیے ٹل گیا ہے۔

گذشتہ روز اپنے 14 منٹ کے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اتحادی جماعتوں نے سخت ترین فیصلے لے کر ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے اپنی سیاست کی قربانی دی۔ ہم ہمیشہ اپنے ووٹ بینک کے بارے میں سوچنے کے بجائے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کی فکر میں رہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ریاست مخالف سازشوں کے باوجود حکومت نے ہمت نہیں ہاری اور آئی ایم ایف کے ساتھ عملے کی سطح پر معاہدہ کرنے میں کامیاب رہی۔

یہ بھی پڑھیے

استحکم پاکستان پارٹی نے عقاب کو انتخابی نشان کے طور پر حتمی شکل دے دی

چیئرمین تحریک انصاف نے پیر کے روز تک اپنی گرفتاری کا خدشہ ظاہر کردیا

انہوں نے مزید کہا کہ آج پوری قوم کی جانب سے دوست اور برادر ممالک چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ایک بار پھر انتہائی مشکل حالات میں خلوص نیت سے پاکستان کا ساتھ دیا۔ دوست ممالک کی مہربانی کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ چین کے صدر شی جن پنگ، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زید النہیان نے جس طرح پاکستان کو بحران سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کیا وہ قابل تعریف ہے۔

انہوں نے سفارتی محاذ پر وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی کاوشوں کا بھی اعتراف کیا۔ اسی طرح، انہوں نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی سٹاف (COAS) جنرل سید عاصم منیر کی معیشت کے استحکام میں مدد کے لیے انتھک کوششوں کو بھی سراہا۔

انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اجتماعی دانشمندی اور جدوجہد کے ساتھ آگے بڑھ کر ملک کی کھوئی ہوئی عظمت کو دوبارہ حاصل کیا جائے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اقتصادی بحالی کے ایک جامع قومی منصوبے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل قائم کی گئی تھی جس نے اپنا کام شروع کر دیا تھا اور خلیجی ممالک سے زراعت، صنعت، توانائی، آئی ٹی، دفاعی پیداوار اور معدنیات سمیت مختلف شعبوں میں بڑی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کر رہی تھی۔

وزیر اعظم شہباز نے قوم کو یقین دلایا کہ اس قومی ایجنڈے پر وفاقی حکومت، تمام صوبائی حکومتیں اور مسلح افواج اسے کامیاب بنانے کے لیے پوری طرح حکومتی اپروچ اپنا رہی ہیں۔

مجموعی اقتصادی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کاروباری اور سرمایہ کاری برادریوں کا اعتماد بھی بحال ہو رہا ہے جبکہ بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی فچ نے بھی پاکستان کی ریٹنگ کو ٹرپل سی کر دیا ہے۔

وزیر اعظم شہباز نے کہا کہ جب 30 جون کو آئی ایم ایف کے ساتھ عملے کی سطح کے معاہدے کا اعلان ہوا تو سرمایہ کاروں نے اسٹاک ایکسچینج مارکیٹ کے ذریعے معاہدے پر اپنے مکمل اطمینان کا اظہار کیا ، کیونکہ کے ایس ای 100 انڈیکس میں ایک ہی دن میں ریکارڈ 2446 پوائنٹس کا اضافہ ہوا تھا۔

اب اسٹاک ایکسچینج 45000 پوائنٹس کی سطح کو عبور کرچکی ہے جو 14 ماہ کی بلند ترین سطح ہے ، پاکستانی روپے کی قدر میں بھی بہتری آرہی ہے۔

بھیک کا کٹورا توڑنے کا عزم کرتے ہوئے انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ ملک کو ترقی اور خوشحالی کی نئی بلندیوں پر لے جانے کے لیے آگے آئیں۔

اپنی حکومت کی مدت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ وہ اگست میں اقتدار عبوری حکومت کے حوالے کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی مخالفین کی جانب سے چیلنجز اور سازشوں کے باوجود، مخلوط حکومت نے مختصر ترین مدت میں ملک کو درست سمت میں ڈالنے میں کامیابی حاصل کی۔

متعلقہ تحاریر