سائفر اور آڈیو لیکس کیس: ایف آئی اے جے آئی ٹی کی عمران خان سے 2 گھنٹے سے زائد پوچھ گچھ
پی ٹی آئی کے سربراہ کے وکیل لطیف کھوسہ کا کہنا ہے کہ کسی بھی وزیراعظم کا فون ٹیپ کرنا جرم ہے، یہ پی ٹی آئی سربراہ کا نہیں وزیراعظم کا ہے۔
پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان سائفر اینڈ آڈیو لیکس کیس میں ایف آئی اے کی مشترکہ انکوائری ٹیم کے سامنے پیش ہوئے جہاں انہوں نے دو گھنٹے سے زائد سوالات کے جوابات دیئے۔
مشترکہ انکوائری ٹیم نے عمران خان سے سائفر کے بارے میں مختلف سوالات کیے اور ساتھ ساتھ ان کے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے بیان کے بارے میں بھی پوچھ گچھ کی۔
ایف آئی اے ٹیم نے عمران خان سے رہنما تحریک انصاف اسد عمر اور شاہ محمود قریشی سے متعلق بھی سوالات بھی کئے۔
سوالنامے میں سائفر کے غائب ہونے کے ساتھ ساتھ آڈیو لیکس کے بارے میں سوالات بھی شامل تھے۔
جے آئی ٹی نے عمران خان سے ان کے مختلف بیانات پر بھی پوچھ گچھ کی۔
سابق وزیر اعظم نے جواب دیا کہ سائفر پر قومی سلامتی کمیٹی کے دونوں اجلاسوں کے منٹس دستیاب ہیں۔
جے آئی ٹی سائفر سے متعلق بیانات کی روشنی میں مزید تفتیش جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
سائفر اور آڈیو لیکس کیس میں عمران کی ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر میں متوقع پیشی کے باعث اسلام آباد پولیس نے سخت حفاظتی اقدامات کیے تھے۔
ایف آئی اے کی کوئیک رسپانس ٹیم بھی ہیڈ کوارٹر کے باہر الرٹ رہی۔ عمران خان کو ایف آئی اے نے دوپہر کو طلب کیا تھا۔
ایف آئی اے کی طلبی کے خلاف عمران کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی سائفر ایشو پر ایف آئی اے کی جانب سے جاری سمن کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
عدالت نے وکیل کے دلائل سننے کے بعد کیس کے قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی اے نے کابینہ کی ہدایت پر سائفر معاملے کی انکوائری شروع کی۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا کابینہ ایف آئی اے کو ہدایات دے سکتی ہے؟
بیرسٹر لطیف کھوسہ نے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ "پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بلائیں اور وہاں اس معاملے پر بات چیت کریں۔”
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بنیادی طور پر درخواست گزار (عمران خان) نے ایف آئی اے کے 19 جولائی کے طلبی کے نوٹس کو چیلنج کیا ہے۔
لطیف کھوسہ نے مزید دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی وزیراعظم کا فون ٹیپ کرنا جرم ہے، یہ پی ٹی آئی چیئرمین کا نہیں وزیراعظم آفس کا معاملہ ہے۔
لطیف کھوسہ نے سوال اٹھا کہ موکل سابق وزیر اعظم ہیں لیکن وہ نہیں جانتے کہ انہیں کیوں طلب کیا گیا ہے۔
عدالت کی توجہ اس جانب مبذول کراتے ہوئے وکیل لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ہمارے بہادر وزیر داخلہ کہتے ہیں کہ انکوائری کے وقت گرفتاری بھی ہو سکتی ہے۔









