وفاقی کابینہ نے نوآبادیاتی دور کے سیکرٹ ایکٹ میں ترمیم کی منظوری دے دی

تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی کے کردار کو بھی شامل کیا جائے گا۔

نوآبادیاتی دور کے سیکریٹ ایکٹ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے وفاقی کابینہ نے بدھ کے روز آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 میں ترمیم کی منظوری دے دی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ترمیم میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت تفتیشی ایجنسی کے طور پر شامل کیا جائے گا۔

یہ بڑی تحقیقاتی ایجنسیوں کے مزید مربوط کرداروں اور ہم آہنگی کے لیے ایک فریم ورک کو قابل بنائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

ایف آئی اے نے پی ٹی آئی چیئرمین کو سائفر کیس میں یکم اگست کو طلب کر لیا

القادر اور توشہ خانہ کیسز میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں توسیع

ذرائع نے بتایا کہ اس ترمیم سے حساس معلومات کے تحفظ یقینی بنانے اور غیر مجاز افراد کو اس تک رسائی کو روکنے میں مدد ملے گی۔

ذرائع کے مطابق اس ترمیم سے خفیہ معلومات سے متعلق مقدمات کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی تشکیل میں مدد ملی گی۔

وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد اب یہ ترمیم اب منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں بھیجی جائے گی۔

متعلقہ تحاریر