9 اگست کی رات اسمبلی تحلیل ہو جائے گی، رانا ثناء اللہ
وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ نگراں وزیراعظم کسی سیاسی جماعت سے ہونا چاہیے۔
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ 9 اگست کی رات قومی اسمبلی تحلیل کر دی جائے گی۔ انہوں نے اصرار کیا کہ تمام جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ نگران وزیر اعظم ایک سیاستدان ہو گا۔
ان خیالات کا اظہار رانا ثناء اللہ نجی نیوز چینل سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں کیا۔ ان کا کہنا تاھ کہ انتخابات کو کسی سازش یا کسی خاص مقصد کے تحت آگے نہیں بڑھایا جائے گا۔
نگراں وزیراعظم کے نام کے حوالے کے حوالے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ یہ میڈیا کی قیاس آرائیاں تھیں ، پاکستان مسلم لیگ ن نے اسحاق ڈار کا نام بطور نگراں وزیراعظم نہیں دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
اسٹیبلشمنٹ اس وقت کنفیوزن کا شکار ہے، عمران خان
پاکستان پیپلز پارٹی نے نگراں وزیراعظم کے نام کے حوالے چلنے والی خبروں کو فیک قرار دے دیا
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ نگراں وزیراعظم کسی سیاسی جماعت سے ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پی ایم ایل این کی جانب سے اسحاق ڈار اور پی پی پی کی جانب سے رضا ربانی کے نام پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئی مردم شماری میں بہت سے مسائل ہیں، یہ کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں اور اس کی اعلان بھی نہیں کیا جائے گا۔
رانا ثناء اللہ نے قومی اسمبلی میں موجودہ اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کو اچھا امیدوار قرار دیتے ہوئے ٹکٹ دینے کا وعدہ بھی کیا۔
نگراں وزیراعظم
اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) اسحاق ڈار کو ممکنہ نگراں وزیر اعظم تصور کرتی تھی۔
ڈار موجودہ وزیر خزانہ ہیں اور سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔
مسلم لیگ ن اس وقت حکمران اتحاد میں شامل اپنے اتحادیوں کے ساتھ نگراں وزیر اعظم کے نام پر اتفاق رائے تک پہنچنے کے لیے بات چیت کر رہی ہے۔ تاہم پیپلز پارٹی نے اسحاق ڈار کے نام کی شدید مخالفت کررہی ہے۔
اسحاق ڈار کا بیان
خیال رہے کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ وہ نگراں وزیراعظم کے لیے اپنا نام تجویز کرنے کی تجویز پر ’کچھ حلقوں‘ کے ردعمل پر حیران ہیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کی قیادت نگراں وزیراعظم کے حوالے سے جو بھی فیصلہ کرے گی وہ قبول کریں گے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ نگراں حکومت کے اختیارات میں اضافہ کیے بغیر پاکستان نہیں چل سکتا اور انتخابات کے ملتوی ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ان خیالات کا اظہار نجی نیوز چینل سماء کے پروگرام ریڈ لائن میں گفتگو کرتے ہوئے کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ نگران حکومت 60 دن کی بجائے 90 دن کی ہونی چاہیے۔









