اسلامک اسٹیٹ نے باجوڑ میں خودکش دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی
دہشتگرد تنظیم کے ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ روز اسلامک اسٹیٹ کے ایک خودکش حملہ آور نے حملہ کیا تھا۔
دہشتگرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ گروپ نے پیر کے روز صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں خودکش بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
یہ خودکش حملہ اس سال کے آخر میں ہونے والے انتخابات سے قبل ایک سیاسی جماعت کے اجتماع میں ہوا ، جس میں 23 بچوں سمیت کم از کم 54 افراد شہید ہوئے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس خودکش حملے کے بعد یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ گذشتہ سال اپریل میں عمران خان کو وزارت عظمیٰ کے منصب سے ہٹائے جانے کے بعد کئی مہینوں تک پاکستان سیاسی افراتفری پیدا ہو گئی تھی ، اب دوبارہ افراتفری کا شکار ہوسکتا ہے۔
دہشتگرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے خودکش حملہ آور نے اتوار کے روز جمعیت علمائے اسلام-ایف (JUI-F) کے ورکرز کنونشن میں دھماکہ کیا تھا ، دھماکے کے وقت پنڈال میں 400 سے زائد افراد موجود تھے ، تمام افراد اپنے رہنما کی تقریر کا انتظار کررہے تھے کہ بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔
یہ بھی پڑھیے
نگراں وزیراعظم کا معاملہ: راجہ ریاض کا 2 اگست سے مشاورتی عمل شروع کرنے کا اعلان
دھماکے میں بچ جانے والے ایک کارکن فضل امان نے اے ایف پی سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ جب بم دھماکہ ہوا تو میں اس وقت خیمے کے پاس ہی ماجود تھا ، دھماکے کے بعد میرے سامنے ایک تباہ کن منظر تھا ، ہر طرف لاشیں بھکری ہوئی تھی ، جبکہ زخمی لوگ مدد کے لیے پکار رہے تھے۔
انسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے ایک سینئر اہلکار شوکت عباس نے اے ایف پی کو بتایا کہ 54 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جن میں 23 کی عمریں 18 سال سے کم تھیں۔
اتوار کے روز کیے گئے خودکش دھماکے کی ذمہ داری پیر کے روز کالعدم تنظیم اسلامک اسٹیٹ نے قبول کی ہے۔
دہشتگرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے خبر رساں ادارے اعماق نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ’’اسلامک اسٹیٹ کے ایک خودکش حملہ آور نے ، اپنی دھماکہ خیز جیکٹ کے ساتھ خود کو ایک ہجوم کے درمیان اڑا دیا‘‘۔
یہ حملہ افغان سرحد سے صرف 45 کلومیٹر کے فاصلے پر شمال مغربی ضلع باجوڑ کے قصبے خار میں ہوا، ایک ایسے علاقے میں جہاں 2021 میں طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد سے عسکریت پسندی عروج پر ہے۔
دہشتگرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ اس سے قبل بھی جے یو آئی (ف) کے رہنماؤں کو نشانہ بناتی رہی ہے۔
قومی اسمبلی کی تحلیل
امکان ہے کہ پارلیمان آئندہ دو ہفتوں میں اپنی مدت پوری کرنے کے بعد تحلیل ہو جائے گی، قومی انتخابات نومبر کے وسط یا اس سے پہلے کرائے جائیں گے۔









