منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی پشت پناہی کو روکنے کے لئے بل قومی اسمبلی سے منظور
قومی اسمبلی نے نیشنل اینٹی منی لانڈرنگ اینڈ کاؤنٹر فنانسنگ آف ٹیرارزم اتھارٹی ایکٹ 2023 منظور کر لیا ہے۔ مسودہ بل کے مطابق اتھارٹی کا چیئرمین وزیر اعظم تعینات کریں گے، ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں ہوگا، اتھارٹی میں سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری فنانس، سیکریٹری خارجہ شامل ہوں گے، اتھارٹی میں گورنر اسٹیٹ بینک، چیئرمین ایس ای سی پی، چیئرمین نیب، ڈی جی ایف آئی اے شامل ہوں گے۔ اتھارٹی میں ڈی جی انسداد منشیات، چیئرمین ایف بی آر ، ڈی جی فنانشل مانیٹرنگ یونٹ شامل ہیں۔ اتھارٹی میں قومی انسدا دہشت گردی اتھارٹی کے قومی کو آرڈینیٹر اور ڈی جی اتھارٹی شامل کیا گیا ہے۔ اتھارٹی انٹی منی لانڈرنگ، انسداد مالی معاونت برائے دہشت گردی اور ٹارگٹڈ مالی پابندیوں کے قوانین کے تحت شکایات کے ازالے کی مجاز ہو گی، اتھارٹی انسداد مالی معاونت برائے دہشت گردی، منی لانڈرنگ کے خلاف بین القوامی و قومی اداروں کے ساتھ تعاون کی مجاز ہو گی، اتھارٹی دہشت گردی کی مالی معاونت، منی لانڈرنگ روکنے کے لئے قومی اسٹریٹیجی بنانے اور عملدرآمد کی مجاز ہو گی، اینٹی منی لانڈرنگ ، دہشت گردوں کی مالی معاونت اور مالی پابندیوں پر جدید ترین قوانین حکومت کو سفارش کرنے کی مجاز ہو گی، اتھارٹی کے چیئرمین کی مدت ملازمت تین سال ہو گی، تین سال کے لئے دوبارہ تعینات کیا جا سکے گا، چیئرمین اتھارٹی مستعفی ہونے کی صورت میں اپنا استعفیٰ وزیر اعظم کو جمع کرائیں گے، اتھارٹی پاکستان میں مشکوک ٹرانزیکشن کا ڈیٹا اکھٹا کرے گی۔









