اسلام آباد ہائی کورٹ سے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے لیے بڑا فیصلہ آگیا
آئی ایچ سی نے توشہ خانہ کیس کا فیصلہ قابل سماعت ہونے سے متعلق سیشن کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ فوجداری کیس قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق معاملہ واپس ٹرائل کو بھیج دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی 5 درخواستوں پر گذشتہ روز محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا ہے ، اور معاملہ واپس ٹرائل کورٹ کو بھجوا دیا گیا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی پانچ درخواستوں میں پہلی درخواست توشہ خانہ کیس کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق جو ٹرائل کورٹ کا فیصلہ تھا ، اس کے خلاف تھی۔
یہ بھی پڑھیے
رضوانہ تشدد کیس: سول جج کی اہلیہ صومیہ عاصم کو پھر عبوری ضمانت مل گئی
توشہ خانہ کیس کے جج نے میڈیا کی کمرہ عدالت میں آنے پر پابندی لگا دی
اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی اس درخواست کو منظور کرتے ہوئے توشہ خانہ کیس کو ٹرائل کورٹ کی جانب سے قابل سماعت قرار دینے کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا اور کیس واپس ٹرائل کورٹ کو ریفر کردیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی ہے کہ اس درخواست کو سن کر دوبارہ فیصلہ کیا جائے۔
دوسری درخواست میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے توشہ خانہ کیس دوسری عدالت میں منتقل کرنے کی استدعا کی تھی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے یہ درخواست مسترد کردی گئی ہے۔
تیسری درخواست میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے ٹرائل کورٹ کے جج کے فیس بک پر پی ٹی آئی مخالف پوسٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ اس پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کو تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کو 10 روز میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔
چوتھی درخواست میں چیئرمین پی ٹی آئی نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے حق دفاع کا حق معطل کرنے کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ کے جج نے چیئرمین پی ٹی آئی کو توشہ خانہ کیس میں گواہ پیش کرنے کا حق معطل کردیا ہے۔
اس درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے آئندہ ہفتے تک جواب طلب کرلیا ہے۔









