یوم استحصال کشمیر: صدر مملکت ، وزیراعظم اور فوج کی اعلیٰ قیادت کا مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی
آج کے روز 2019 میں مودی سرکاری کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا قانون منظور کیا گیا ، جس کے خلاف آج مقبوضہ کشمیر اور پاکستان میں یوم استحصال کشمیر منایا جارہا ہے۔
مقبوضہ کشمیر سمیت آزاد کشمیر ، پاکستان اور دنیا بھر میں جہاں جہاں بھی کشمیری آباد ہیں وہ آج یوم استحصال کشمیر منا رہے ہیں۔ 5 اگست 2019 کو مودی سرکاری نے آرٹیکل 370 کو سسپنڈ کرتے ہوئے بھارت کے زیرتسلط کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کردیا تھا۔
تفصیلات کے مطابق آج پاکستان یوم استحصال کشمیر کا دن منارہا ہے۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی ، وزیراعظم شہباز شریف اور فوج کی اعلیٰ قیادت نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے غیر انسانی فوجی محاصرے اور بے مثال تشدد کی مذمت کی ہے۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی ، وزیر اعظم شہباز شریف نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور چیف آف آرمی سٹاف کے ساتھ مل کر وادی کی خصوصی خودمختاری ختم کرنے کی چوتھی برسی کے موقع پر نئی دہلی کے اقدامات کی سخت سرزنش کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
الیکشن کمیشن نے ارکان پارلیمنٹیرینز کو 31 دسمبر تک اپنے گواشوارے جمع کرانے کا پابند کردیا
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے یوم استحصال کشمیر کے موقع پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ 5 اگست 2019 کے اقدامات متنازعہ علاقے پر قبضہ کرنے اور کشمیری کردار کو مٹانے کےلیے کیے گئے۔

ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہے کہ سفارتی دوغلا پن بھارتی دہشتگردی کی حقیقت تبدیل نہیں کرسکتا۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی آواز بنے گا، جو انمول قربانیاں دے رہے ہیں اور ان کے جائز حقوق کے مکمل حصول کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔
اپنے بیان میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کشمیری عوام کی حصول آزادی کےلیے کی جانے والے جدوجہد کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

شہباز شریف نے کہا ہے کہ بھارت نے لاکھوں غیرکشمیریوں کو جعلی ڈومیسائل جاری کیے ، موجودہ ووٹرز فہرستوں میں ردوبدل کے لیے لاکھوں عارضی رہائیشیوں کو شامل کیا گیا۔ پاکستان تمام یک طرفہ اور غیرقانونی اقدامات کی شدید مذمت کرتا ہے۔
وزیراعظم نے اپنے پیغام میں مزید کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ظلم جاری کیے ہوئے ہے ، عالمی برادری کو مزید خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ جب تک دنیا ایکشن نہیں لیتی اور بھارت پر زور دیتی ہے کہ وہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور IIOJK پر زبردستی قبضے کو ختم کرے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
مزید برآں، وزیر اعظم نے 5 اگست 2019 سے ہندوستان کی طرف سے اٹھائے گئے تمام یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کو واپس لینے پر زور دیا، اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کی حمایت کی ہے۔
دریں اثنا، انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے کشمیر کے یوم استحصال پر فوجی قیادت نے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے پیغام جاری کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی قراردادوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فوجی سربراہ نے زور دیا کہ کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دیا جائے۔ انہوں نے انصاف اور آزادی کے لیے کشمیریوں کی جدوجہد میں پاکستانی مسلح افواج، عسکری قیادت اور عوام کی غیر متزلزل حمایت کا بھی اظہار کیا۔
عسکری قیادت نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ انسانی حقوق کی یہ خلاف ورزیاں نہ صرف بین الاقوامی قوانین کے منافی ہیں بلکہ علاقائی سلامتی کے لیے بھی مستقل خطرہ ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ تنازعہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے اور اسے کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔
یوم استحصال کشمیر کے موقع پر مسلح افواج نے انصاف کے حصول میں کشمیریوں کی بے پناہ قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے بہادر کشمیری شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔
آئی ایس پی آر نے بھارتی جبر اور ناجائز قبضے کے خلاف جاری جدوجہد میں کشمیریوں کی سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
آرٹیکل 370 کی تنسیخ
5 اگست 2019 کو بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کر کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی تھی۔ اس اقدام سے باقی ہندوستان کے لوگوں کو مقبوضہ کشمیر میں جائیداد حاصل کرنے اور وہاں مستقل طور پر آباد ہونے کا حق مل گیا ہے۔
کشمیری، بین الاقوامی تنظیمیں اور بھارت کی ہندو قوم پرست قیادت والی حکومت کے ناقدین اس اقدام کو مسلم اکثریتی کشمیر کی آبادی کو ہندو آباد کاروں کے ساتھ کمزور کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں۔
گزشتہ چار سالوں سے پاکستان مقبوضہ وادی میں اس اقدام اور بھارتی مظالم کے خلاف آواز اٹھا رہا ہے۔
گزشتہ سال حکومت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کے مکینوں کی یوم استحقاق کے طور پر اعلان کیا تھا تاکہ بھارتی حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خودمختاری ختم کرنے کے فیصلے کے خلاف احتجاج درج کیا جا سکے۔









