توشہ خانہ کیس: پولیس نے عدالتی فیصلے کے بعد عمران خان کو گرفتار کرلیا

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے عمران خان کو تین سال قید کی سزا سنا دی ، عدالت نے پی ٹی آئی چیئرمین کو بھی 5 سال کے لیے نااہل قرار بھی دیا ہے جبکہ ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی کیا ہے۔

پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کو اسلام آباد کی سیشن عدالت نے توشہ خانہ فوجداری کیس میں تین سال قید اور پانچ سال کے لیے نااہل قرار دے دیا ، فیصلے کے بعد اسلام آباد پولیس نے چیئرمین تحریک انصاف کو ان کی رہائش گاہ زمان پارک سے گرفتار کرلیا ہے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم کو اٹک جیل منتقل کیا جا سکتا ہے، نیب کی ٹیم عمران خان کی گرفتاری کی درخواست دائر کرے گی۔

پنجاب کے نگراں وزیر اطلاعات عامر میر کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی سربراہ کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار کر لیا ہے اور انہیں دارالحکومت بھیج دیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق انہیں خصوصی طیارے کے ذریعے اسلام آباد بھیجا جا رہا ہے۔

عامر میر کا کہنا تھا کہ اسلام آباد پولیس نے عمران خان کو پنجاب میں ان کے ہم منصبوں کی مدد سے گرفتار کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین کو کس جیل میں رکھا جائے گا اس کا فیصلہ اسلام آباد پولیس چیف کریں گے۔

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے توشہ خانہ فوجداری کیس میں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے خلاف جرم ثابت ہونے پر تین سال قید کی سزا سنادی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو پانچ سال کے لیے نااہل بھی قرار دیا ہے۔

کچھ دیر قبل محفوظ کیا گیا اپنا فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے کیس کو قابل سماعت قرار دینے کے خلاف سابق وزیراعظم کی اپیل بھی مسترد کر دی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم نے الیکشن کمیشن میں غلط تفصیلات جمع کروائیں، اور وہ بدعنوانی کے مرتکب پائے گئے۔

عدالت نے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیئے۔ اس پر 100,000 روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ جرمانہ جمع نہ کرانے کی صورت میں مزید چھ ماہ قید کی سزا کاٹنا ہوگی۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کا فیصلہ

اوپن کورٹ میں فیصلہ لکھواتے ہوئے جج ہمایوں دلاور نے کہا ہے کہ توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی بےایمانی ثابت ہوتی ہے ، سیکشن 174 کے تحت عمران خان کے خلاف جرم ثابت ہوتا ہے۔

عدالت نے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیئے۔ اس پر 100,000 روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ جرمانہ جمع نہ کرانے کی صورت میں مزید چھ ماہ قید کی سزا ہو جائے گی۔

اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو عدالتی حکم پر عملدرآمد کا حکم دے دیا گیا ہے۔

لاہور میں عمران خان کی زمان پارک رہائش گاہ کے باہر پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی ہے۔ پولیس نے زمان پارک جانے والی تمام سڑکیں بھی سیل کر دی ہیں۔

عمران خان کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کیس کا فیصلہ پی ٹی آئی سربراہ کے وکیل کے حتمی دلائل میں توسیع کے لیے پیش نہ ہونے پر محفوظ کیا گیا تھا۔ جج

قبل ازیں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہمایوں دلاور نے قرار دیا تھا کہ اگر درخواست گزار کے وکیل ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق حتمی دلائل میں توسیع کے لیے حاضر نہیں ہوئے تو وہ دوپہر کو فیصلہ سنائیں گے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں جج ہمایوں دلاور نے پھر سماعت ملتوی کر دی، پی ٹی آئی کے سربراہ کے وکیل کی عدم پیشی کی وجہ سے تیسری بار سماعت ملتوی کی گئی۔

اسلام آباد میں سیکورٹی

اسلام آباد پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دارالحکومت میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ تمام افسران کو اپنے علاقوں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے اور شہر بھر میں چیکنگ بڑھا دی گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شہر میں ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں ہے۔

عمران خان کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کیس کا فیصلہ سیشن عدالت نے پی ٹی آئی سربراہ کے وکیل کے حتمی دلائل میں توسیع کے لیے پیش نہ ہونے پر محفوظ کیا تھا۔ جج نے کہا تھا کہ وہ رات 12:30 بجے فیصلہ سنائیں گے۔

قبل ازیں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہمایوں دلاور نے قرار دیا تھا کہ اگر درخواست گزار کے وکیل ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق حتمی دلائل میں توسیع کے لیے حاضر نہیں ہوئے تو وہ دوپہر کو فیصلہ سنائیں گے۔

اسلام آباد پولیس کا کہنا تھا توشہ خانہ فوجداری کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ہمایوں دلاور کی سیکورٹی بھی بڑھا دی گئی ہے۔

متعلقہ تحاریر