تحریک انصاف نے عمران خان کو اٹک سے اڈیالہ جیل منتقل کرنے کی درخواست کردی
عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کے ڈاکٹر فیصل سلطان کو پی ٹی آئی سربراہ کا میڈیکل چیک اپ کرانے کی اجازت دی جائے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان کو اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقل کرنے کے لیے پیر کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی۔
سابق وزیر اعظم عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں "کرپٹ پریکٹسز” کا جرم ثابت ہونے پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ سے تین سال قید کی سزا سنائی گئی۔
عمران خان کے وکیل نعیم حیدر پنجوٹھا کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں عدالت سے مختلف استدعتیں کی گئی ہیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان چونکہ سابق وزیراعظم ہیں اس لیے قانون کے تحت انہیں جیل میں اے کلاس فراہم کی جائے، جو ان کا قانونی حق ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلاء کو ان کے ساتھ ملاقات کی اجازت دی جائے، تاکہ ان کی جانب سے فیصلے کے خلاف دائر کی جانے والی درخواست پر ان کے دستخط لیے جاسکیں۔
سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری
پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کو 5 اگست کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں جرم ثابت ہونے پر ان کی گرفتاری کا حکم دیا تھا ، جس کے بعد اسلام آباد پولیس نے لاہور پولیس کے تعاون سے عمران خان کو ان کی رہائش گاہ زمان پارک لاہور سے گرفتار کرلیا تھا۔
عمران خان کے وکیل نعیم حیدر پنجوٹھا نے اٹک جیل میں اپنے موکل کی قید پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ 100 قبل تعمیر کی گئی اٹک جیل اٹک کے تاریخی شہر کے مضافات میں تعمیر کی گئی تھی ، جوکہ دارالحکومت اسلام آباد سے 60 کلومیٹر (40 میل) مغرب میں واقع ہے۔
درخواست میں نعیم حیدر پنجوٹھا کی جانب سے درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ مختلف دستاویزات پر دستخط کے لیے وکلاء کی اپنے موکل سے میٹنگز ضروری ہیں۔ سابق حکمران جماعت نے عدالت کو ان افراد کی فہرست فراہم کی ہے جنہیں سابق وزیراعظم سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔
فہرست میں ان کے ڈاکٹر فیصل سلطان، خاندان کے افراد اور پارٹی کے سینئر رہنما شامل ہیں۔









