پی ٹی آئی کی سینیٹ الیکشن کی تیاری اور حزب اختلاف کے خالی وار

سینیٹ الیکشن کو اوپن بیلیٹ کے ذریعے منعقد کرانے کا بل قومی اسمبلی سے قائمہ کمیٹی برائے قانون وانصاف کو بھجوایا گیا تھا جس نے جمعرات کو چیئرمین ریاض فتیانہ کی صدارت میں کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے۔

پاکستان میں حزبِ مخالف کی کوششیں دھری کی دھری رہ گئیں اور حکومت نے سینیٹ کا انتخاب اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کی 26 ویں آئینی ترمیم کا مجوزہ بل کثرت رائے سے منظور کرالیا ہے۔ اِس کے علاوہ حکومتی جماعت نے اپنے ممبران قومی اسمبلی کے لیے ترقیاتی فنڈز کی بھی منظوری دے دی ہے اور سینیٹ انتخاب سے قبل جہانگیر ترین کو واپس پی ٹی آئی میں لانے کی باتیں بھی کی جا رہی ہیں۔

سینیٹ الیکشن کو اوپن بیلیٹ کے ذریعے منعقد کرانے کا بل قومی اسمبلی سے قائمہ کمیٹی برائے قانون وانصاف کو بھجوایا گیا تھا جس نے جمعرات کو چیئرمین ریاض فتیانہ کی صدارت میں کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے۔ اس بل کے حق میں 6 اور مخالفت میں 3 ووٹ ڈالے گئے تھے۔ حزب اختلاف کے اراکین کمیٹی کے چیئرمین پر جانبداری کا الزام لگاتے ہوئےاجلاس سے واک آؤٹ کرگئے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان پیپلزپارٹی کے 3 ارکان نے بل کی مخالفت کی جبکہ مسلم لیگ (ن) کے ارکان اجلاس میں شریک ہی نہیں ہوئے۔

اب یہ بل سینیٹ میں پیش کیا جائے گا جہاں سے بل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی قانون وانصاف کو بھجوایا جائے گا اور منظوری کے بعد حکومت سینیٹ سے بل کی منظوری حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔

سینیٹ سے بل کی منظوری ٹیڑھی کھیر

  حکومت اور اپوزیشن جماعتوں میں کشیدگی عروج پر ہے ایسے میں حکومت کے لئے اوپن بیلٹ کے ذریعہ بل کی منظوری کا حصول ٹیڑھی کھیر ثابت ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ حزب اختلاف پہلے ہی سینیٹ الیکشن کھلی رائے شماری سے کرانے کی بھرپور مخالفت کر چکی ہے۔

قانون سازی، حکومت کے پاس کم وقت اور مقابلہ سخت

اس صورت حال میں حکومت کے پاس وقت کم بچا ہے کیونکہ مارچ میں سینیٹ کے نصف ارکان اپنی مدت مکمل کر رہے ہیں اور  نئے ارکان کے انتخاب کے لئے رائے شماری ہونی ہے۔ ضروری ہے کہ ماہ فروری میں بل کو قانونی شکل دی جائے بصورت دیگر مروجہ طریقہ کار کے تحت ہی الیکشن کا انعقاد کرنا ہوگا۔ مگر حکومت ایسا خطرہ مول لینے کو تیار نہیں ہوگی کیونکہ تحریک انصاف کو سینیٹ میں اکثریت حاصل ہونے والی ہے۔ جس کے بعد حکومت کے لئےاپوزیشن کی سینیٹ میں مخالفت کی رکاوٹ دور ہو جائے گی اور حکومت اکثریت کے بل پر جو قانون منظور کروانا چاہے گی کروالے گی۔

سینٹ میں مخالفت پر حکومت کے پاس کیا راستہ ہے؟

حکومت سینیٹ میں اکثریت نہ ہونے کے باوجود گزشتہ برس آرمی ایکٹ سمیت بعض بلز کی منظوری لے چکی ہے تاہم ناکامی کی صورت میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا آپشن موجود ہے تاکہ سینیٹ سے 3 برس کے لئے اپوزیشن کی مخالفت کانٹا ہی نکال دیا جائے۔ حکومت گزشتہ برس پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس سے متعلق 3 قانونی مسودے منظور کراچکی ہے۔

سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس

وفاقی حکومت نے سینیٹ کے انتخاب کھلی رائے شماری سے کرانے کے لیے صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کررکھا ہے جس کی سندھ حکومت نے مخالفت کی ہے۔ جبکہ پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان جہاں پی ٹی آئی برسراقتدار ہے وہاں اُن صوبائی حکومتوں نے صدارتی ریفرنس کی حمایت کی ہے۔

حکومت سندھ کا موقف

حکومت سندھ  سینیٹ الیکشن سے متعلق صدارتی ریفرنس کی مخالفت کرچکی ہے۔ سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ صدارتی ریفرنس سیاسی مصلحت کی بنیاد پر دائر کیا گیا ہے۔

صدر مملکت کے بھیجے گئے ریفرنس میں کوئی قانونی سوال نہیں اٹھایا گیا۔ سندھ حکومت کاکہنا ہے کہ سپریم کورٹ صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے دینے سے انکار کرے۔ الیکشن ایکٹ 2017 میں سینیٹ انتخاب کا طریقہ واضح کیا گیا ہے۔ سندھ حکومت کے جواب میں کہا گیا ہے کہ ریفرنس میں سیاست، سماجی، اخلاقی اقدار سے متعلق سوالات اٹھائےگئے جن کا آئین سے کوئی تعلق نہیں۔

صحافیوں

الیکشن کمیشن کی سپریم کورٹ میں مخالفت

الیکشن کمیشن نے سینیٹ انتخاب کھلی رائے شماری سے کرانے کےصدارتی ریفرنس کی سپریم کورٹ میں مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سینیٹ انتخاب ہمیشہ آئین کی دفعہ 226 کے مطابق خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہی ہوئے ہیں۔

الیکشن کمیشن میں موقف اختیار کیا کہ آئین کے آرٹیکل 226 میں واضح ہے کہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے علاوہ تمام انتخاب خفیہ رائے شماری سے ہوں گے جبکہ آرٹیکلز 59، 219 اور 224 میں سینیٹ انتخاب کا ذکر ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سینیٹ میں صحافیوں کی ملازمتوں کے معاہدوں تک پیمرا کی رسائی کا بل مسترد

مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کا موقف

ملک میں حزب مخالف کی دونوں بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی اس بل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئےاسے تاخیری حربہ قرار دے چکی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباس کا کہنا ہے کہ اگر حکومت سمجھتی ہے کہ انتخابی نظام میں کچھ خامیاں ہیں تو اس حوالے سے پورا پیکج لایا جائے۔ حزب اختلاف بھی اپنی تجاویز پیش کرے گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کو خوف ہے کہ اس کے اپنے اراکین آئندہ سینیٹ انتخابات میں اپنے ہی اراکین کو ووٹ نہیں دیں گے۔

سینیٹ انتخابات: پی ٹی آئی 20ارکان کو پارٹی سے نکال چکی ہے

  سینیٹ الیکشن 2018 میں مبینہ طور پر اپنا ووٹ بیچنے پر پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے خیبر پختونخوا اسمبلی کے 20 ارکان کو پارٹی سے نکال دیا تھا۔

سپریم کورٹ میں مسئلہ حل نہ ہونے پر آئینی ترمیم کا فیصلہ

سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کی جانب سے صدارتی ریفرنس کی مخالفت کو دیکھتے ہوئے حکومت نے محسوس کیا کہ اس معاملے میں ان کی دال نہیں گلے گی جس پر فوری آئینی ترمیمی بل کی منظوری کا فیصلہ کیا گیا جو پہلے ہی قومی اسمبلی میں موجود ہے۔

سینیٹ انتخاب شو آف ہینڈ کے ذریعے ممکن نہیں

 سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سینیٹ انتخابات شو آف ہینڈ یا ہاتھ کھڑا کر کے رائے دہی  کے ذریعے نہیں ہوسکتے کیونکہ اس میں ہر ووٹر کو بیلٹ پیپر میں اپنی ترجیح دکھانی ہوگی۔ ووٹر کی کھلی شناخت کو یقینی بنانے کے لیے ووٹر کو بیلٹ پیپر کے پچھلے حصے پر اپنا نام لکھنا ضروری ہوگا۔  وفاقی حکومت نے سینیٹ انتخاب کھلی رائے شماری سے کرانےکے لیے23 دسمبر کو صدر مملکت کی منظوری سے  سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کیا تھا۔

جس میں صدر نے سینیٹ انتخاب اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے پر رائے مانگی ہے۔ ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ آئینی ترمیم کے بغیر الیکشن ایکٹ میں ترمیم کرنے کے لیے رائے دی جائےکیونکہ خفیہ انتخاب سے الیکشن کی شفافیت متاثر ہوتی ہے۔ صدر نے سینیٹ کے الیکشن اوپن بیلٹ یا شو آف ہینڈز کے ذریعے کرانے کے معاملے پرسپریم کورٹ سے رائے مانگی۔

ایوان بالا کی کتنی نشستوں پر انتخابات ہوں گے؟

سینیٹ کے مارچ میں 52 نشستوں پر انتخاب ہوں گے کیوں کہ مجموعی طور پر 104 اراکین کے ایوان میں 52 ارکان 11 مارچ کو ریٹائر ہوں گے۔وزیراعظم کے مشیر بابراعوان کا موقف ہےکہ حکومت احتساب کے لیے پارلیمانی اور سیاسی جماعتوں کو روڈ میپ دے رہی ہے کہ تاکہ سینیٹ انتخاب میں ہارس ٹریڈنگ اور ووٹ کی خرید و فروخت کو روکا جاسکے۔ ان کا کہنا تھاکہ سینیٹ الیکشن کے حوالے سے بل کے تین حصے ہیں۔

سینیٹ الیکشن بل اور ترمیم کی تین تجاویز

پہلی ترمیم

آئین کے آرٹیکل 59 دو میں ایک ترمیم لا رہے ہیں۔ آج تک 1973 کے آئین کے مطابق واحد قابل منتقل ووٹ ہے لیکن ہم اس کے بجائے اوپن ووٹ کا لفظ استعمال کررہے ہیں۔ اس طرح ووٹنگ چھپی ہوئی نہیں رہے گی۔

دوسری ترمیم

بل دوسرا حصے میں آئین کے آرٹیکل 63، جس میں لکھا ہوا ہے نااہلیت کیا کیا ہوتی ہے اور اس میں ایک کا ذیلی پیرا سی میں ترمیم کی جارہی ہے۔بابر اعوان کا دوسری ترمیم کے حوالے سے کہنا تھا کہ یہ ترمیم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے کیا گیا وعدہ ہے۔ صرف ایک آرٹیکل میں ترمیم کرکے بیرون ملک مقیم پاکستانی دوہری شہریت کے باوجود انتخابات لڑ سکتے ہیں۔

تیسری ترمیم

 تیسری ترمیم آئین کے آرٹیکل 226 میں کی جارہی ہے جس میں لکھا ہےکہ وزیراعظم اور بعض دیگر اہم عہدوں کا انتخاب اوپن ہوگا۔ بابر اعوان کا کہنا تھاکہ ہم نے اس لائن میں صرف سینیٹ کا لفظ ڈالا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ سینیٹ کے انتخاب بھی ووٹ کے ذریعے قابل شناخت ہو سکے گا۔

متعلقہ تحاریر