کیا سرین ایئر واقعی بدترین ایئرلائن ہے؟
جوش کہل نے سرین ایئر کی سروس کو بدترین قرار دے دیا۔

ہوائی سفر کے تجزیہ کار جوش کہل نے پاکستان کی نجی ایئرلائن سرین ایئر کی سروس کو بدترین قرار دے دیا ہے۔ عملے سے ناخوش تجزیہ کار نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پوسٹ میں اپنا غصہ نکال دیا۔
جوش کہل کا شمار دنیا کے معروف تجزیہ کاروں میں ہوتا ہے جو ہوائی سفر اور فضائی اداروں کی خدمات پر اپنا تجزیہ پیش کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے ٹوئٹر پوسٹ میں سرین ایئر کے سفر کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ اُنہوں نے لکھا کہ سرین ایئر میں ان کا 2 گھنٹے کا سفر انتہائی برا گزرا۔ جوش کہل کے مطابق سیرین ایئر میں مسافروں کی حفاظت کو ترجیح نہیں دی جاتی۔
جوش نے عملے کے بارے میں لکھا کہ انہوں نے مسافروں کو لینڈنگ سے پہلے نہ تو ضروری ہدایت دیں نہ ہی ہوائی جہاز کا جائزہ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ پرواز کے دوران عملے کا مسافروں کے ساتھ رویہ بھی خوشگوار نہیں تھا۔ سرین ایئر کی سروس پر تنیقد کرتے ہوئے جوش نے کہا کہ فلائٹ میں انہیں ریفریشمنٹ تک نہیں دیا گیا۔
…half of the cabin was still in flat bed mode when touching down, no seat belts, curtains still closed to name a few safety hazards. On a 2 hour flight without service, you would expect the crew to at least pay attention to these kind of things.
— Josh Cahill (@gotravelyourway) February 18, 2021
جوش کہل کی اس پوسٹ پر کمنٹس میں مختلف لوگوں نے ان کی رائے سے اتفاق کیا۔ کچھ ہی دیر میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے سرین ایئر کے خلاف محاذ کھڑا کردیا۔
یہ بھی پڑھیے
سیالکوٹ کی ‘ایئر سیال’ اڑان بھرنے کو تیار
سرین ایئر 2017 میں لانچ ہوئی تھی۔ اندرون ملک سفر کرنے والی پرواز کی پہلی انٹرنیشنل فلائٹ رواں ماہ 14 فروری کو سعودی عرب گئی تھی۔
ایک ایسی پرواز جسے لانچ ہوئے محض 4 سال ہوئے ہیں، اس کی کارکردگی پر اس طرح تنقید کرنا اور اچانک متعدد افراد کا ایئرلائن کے خلاف میدان میں آجانا کچھ عجیب معلوم ہوتا ہے۔ چند سوشل میڈیا صارفین کا خیال ہے کہ کہیں یہ تمام بیانات سرین ایئر کے خلاف کسی سازشی مہم کا حصہ تو نہیں ہیں؟
واضح رہے کہ پاکستان میں کرونا سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر میں ہوائی سفر کے دوران کھانے کی فراہمی معطل کی گئی ہے۔ دو گھنٹے کے سفر کے دوران کوئی بھی ہوائی کمپنی کھانا یا ناشتہ فراہم نہیں کر رہی ہے۔ اِس بات کا اعلان کم از کم دو مرتبہ فلائٹ کے دوران کیا جاتا ہے تاکہ مسافر عملے سے نا الجھیں۔
اِن اعلانات کے باوجود کیا وجہ ہے کہ کہل کو کیا سوجھی کہ وہ پاکستانی ایئر لائن کے بارے میں اپنی رائے دے دیں اِس کا جواب تو وہ خود ہی دے سکتے ہیں۔ تاہمم یہ بات بھی عام ہے کہ دنیا میں نامور تجزیہ کار جو کھانے اور فضائی سفر کے بارے میں تجزیے اور تبصرے کرتے ہیں اُنہیں باقاعدہ اِس بات کے پیسے دیے جاتے ہیں۔ یہاں شاید سرین نے اُن کے ساتھ عام مسافروں کی طرح برتاؤ کیا ہے لہذا وہ اس طرح کا برتاؤ کر رہےہیں۔ لیککن یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ وہ دنیا میں حاصے معروف ہیں اور اُن کے زیادہ تر تجزیے اور تبصرے درست ہوتے ہیں۔









