وکلاء کی ہڑتال کے باوجود عدالتی کارروائی جاری رہی

وکلاء نے اپنی برادری کے ساتھیوں کی ہڑتال کو مسترد کرتے ہوئے عدالتوں میں حاضری دی۔

وکلاء کی ملک گیر ہڑتال کے مطالبے سے برادری میں پھوٹ پڑ گئی ہے۔ متعدد قانون دان وکلاء کے اسلام آباد ہائی کورٹ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے عدالتوں میں پیش ہوگئے اور ہڑتال کے باوجود بھی عدالتی کارروائی میں حصہ لیا۔

وکلاء کی ملک گیر تنظیم پاکستان بار کونسل (پی بی سی) نے ملک بھر میں ہڑتال کی کال دی ہے جس میں ہائیکورٹ کی عمارت میں دھاوا بولنے والے 22 وکلاء کے خلاف تادیبی کارروائی پر احتجاج ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تاہم اس ہڑتال کا تمام وکلاء نے خیرمقدم نہیں کیا ہے۔

سینئر وکیل نعیم بخاری ایک مقدمے کی سماعت میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کے سامنے پیش ہوئے۔ انہوں نے چیف جسٹس سے کہا کہ وہ ان کی حاضری لگائیں کیونکہ وہ ہڑتال کی کال کے باوجود عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔

این اے 75 ڈسکہ ضمنی انتخاب پر اعتراضات پر الیکشن کمیشن آف پاکستان میں معروف وکیل سلمان اکرم راجہ نے سماعت میں شرکت کی۔

عدالت
The Lens

صرف وفاقی ہی نہیں بلکہ صوبوں میں بھی ایسے وکلاء ہیں جو اپنی برادری کے لوگوں کے خلاف کھڑے ہوئے۔ پنجاب میں لاہور ہائیکورٹ نے عدالتی کارروائی جاری رکھی جہاں مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز کی منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت سے متعلق کارروائی پوری کی گئی ہے۔

اسی طرح سندھ میں عدالتیں لگیں اور سندھ ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے لیاقت جتوئی کی جانب سے الزامات کا نشانہ بننے والے سیف اللہ ابڑو کو  سینیٹ انتخاب کے لیے اہل قرار دے دیا۔ اس کے علاوہ صوبہ خیبرپختونخوا میں بھی عدالتی کارروائیاں جاری رہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پنجاب میں وکلاء کی اندھادھن فائرنگ

واضح رہے کہ منگل کے روز پاکستان بار کونسل نے اسلام آباد کے فٹ بال گراؤنڈ میں تعمیر غیر قانونی چیمبروں کو ہٹانے کے خلاف 25 فروری کو ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

تاہم ماضی کے برعکس اس بار وکلاء نے عدالتوں میں پیش ہو کر اپنے ساتھیوں کی ہڑتال کو مسترد کردیا ہے کیونکہ آج وفاقی دارالحکومت سمیت پاکستان کے ہر صوبے میں عدالتی کارروائیاں جاری رہیں۔

متعلقہ تحاریر