شہباز شریف کی ضمانت:کیا میڈیا رپورٹنگ جانبدارانہ تھی؟

روزنامہ ’دنیا لاہور‘ کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ میں اختلاف کی بنا پر شہباز شریف کی ضمانت رک گئی تھی۔

’مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی ضمانت رک گئی۔‘ یہ روزنامہ دنیا لاہور کے نامہ نگار محمد اشفاق کی خبر تھی جو 16 اپریل کو اخبار کی شہ سرخی بنی جبکہ زرائع ابلاغ کے دیگر اداروں نے شہباز شریف کی ضمانت منظور ہونے کی خبریں نشر کیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی ضمانت سے متعلق خبر میڈیا کی ناکامی ہے۔ پاکستان کے ایک اخبار دنیا نے درست خبر دی تھی کہ شہباز شریف کی ضمانت رک گئی ہے کیونکہ کیس کی سماعت کرنے والے لاہور ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینج میں سے جسٹس سرفراز ڈوگر نے ضمانت کا فیصلہ تحریر کیا تھا۔ جبکہ جسٹس اسجد جاوید گھرال نے اختلاف کرتے ہوئے دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد بینچ تحلیل کردیا گیا تھا۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی 2 ریفرنسز میں ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے اُنہیں فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے ملزم کے وکیل کو 10، 10 لاکھ روپے کے 2 ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا بھی حکم دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں اب صحافت آزاد نہیں رہی، صحافی اعزاز سید

پاکستان کے معروف روزنامے ’جنگ نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی ضمانت کی خبر پر پارٹی کی نائب صدر مریم نواز کا خصوصی ٹوئٹ بھی شیئر کیا تھا۔ مریم نواز نے اپنے چچا شہباز شریف کی ضمانت منظوری کی خبر سے متعلق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر خصوصی ٹوئٹ کیا تھا۔

 مریم نواز نے اپنے ٹوئٹ میں الحمداللّہ لکھا۔

پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل کے معروف اینکر پرسن اجمل جامی نے بھی ٹوئٹر پر روزنامہ دنیا لاہور کی خبر کو شیئر کیا ہے۔

اسی طرح پاکستان کے ایک اور معروف صحافی عمر چیمہ نے عدالتی فیصلے کے اعلان کے بعد اختلافی نوٹ شیئر کیا۔

پاکستان کے ایک اور معروف اخبار نوائے وقت کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر اور جسٹس اسجد جاوید گھرال پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے پاکستان مسلم لیگ (ن)کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں محمد شہباز شریف کی منی لانڈرنگ کیس میں درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر جیل سے رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے شہباز شریف کو 50 ،50 لاکھ روپے کے 2 ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا بھی حکم دیا ہے۔

اخبارات تو اپنی جگہ لیکن ٹی وی چینلز نے بھی شہباز شریف کی ضمانت اور ان کی ممکنہ رہائی سے متعلق بریکنگ نیوز چلائیں لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ تمام خبریں غلط تھیں اور فیصلے میں اختلافی نوٹ موجود تھا۔ ایسی صورتحال میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا میڈیا کی اِس مقدمے کی رپورٹنگ جانبدارانہ تھی؟ اگر تھی تو کیوں اور کیا یہ صحافیوں کی سنڈیکیٹڈ رپورٹنگ کا شاخسانہ ہے یا پھر جان بوچھ کر کی گئی تھی؟

متعلقہ تحاریر