جہانگیر ترین گروپ پنجاب حکومت کے لیے خطرہ
جہانگیر ترین ہم خیال گروپ نے پنجاب اسمبلی میں جمعے کے روز پاور شو کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں فارورڈ بلاک اب باقاعدہ سامنے آ گیا ہے اور جہانگیر ترین گروپ کا باقاعدہ طور پر اعلان کردیا گیا ہے۔ نیوز 360 کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین گروپ فی الحال وفاقی حکومت نہیں لیکن صوبہ پنجاب کی حکومت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے وزیراعظم عمران خان پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا ہے۔ انہوں نے نیا گروپ بنالیا ہے جس کا نام جہانگیر ترین ہم خیال گروپ رکھا گیا ہے۔
جہانگیر ترین ہم خیال گروپ کے تمام اراکین اسمبلی سے حلف لے لیا گیا ہے۔ راجہ ریاض احمد کو قومی اسمبلی جبکہ سعید اکبر خان نوانی کو پنجاب اسمبلی میں جہانگیر ترین گروپ کا پارليمانی لیڈر مقرر کردیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
حکومت اور جہانگیر ترین کے درمیان نہلے پہ دہلے کا کھیل جاری
جہانگیر ترین ہم خیال گروپ نے پنجاب اسمبلی میں جمعے کے روز پاور شو کا اعلان کیا ہے تاہم ذرائع کا بھی کہنا ہے کہ یہ گروپ پنجاب حکومت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
اسی ضمن میں منگل کے روز ہم نیوز کے پروگرام میں اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ سے میزبان مہر بخاری نے سوال کیا کہ جہانگیر ترین کا گروپ عمران خان کے لیے خطرہ بن سکتا ہے؟َ جس پر پرویز الہیٰ نے نفی میں جواب دیا۔ لیکن جب میزبان نے اس گروپ سے پنجاب حکومت کو خطرے سے متعلق سوال کیا تو پرویز الہیٰ نے مبہم جواب دیا۔
صفحہ پلٹ گیا۔۔۔؟
کھیل شروع، ایک "ہم خیالی” نے مجھے کہا کہ اگر ہمارے ساتھ امتیازی سلوک نہ ہوا تو ہم بجٹ نہیں روکیں گے۔۔۔
جہانگیر ترین گروپ کی صورت میں عثمان بزدار کے سر پر وہ تلوار لٹکا دی گئی ہےن لیگ سے مل کر عثمان بزاد کے خلاف تحریک عدم اعتماد لا سکتے ہیں
— Meher Bokhari (@meherbokhari) May 18, 2021
امریکی جریدے بلوم برگ کی ایک رپورٹ کے مطابق ٹاپ لائن سکیورٹیز پاکستان لمیٹڈ کے سربراہ محمد سہیل نے کہا ہے کہ ’کچھ لوگوں کے ساتھ چھوڑنے سے خطرہ ضرور رہے گا لیکن اس سے حکومت ختم نہیں ہوگی۔‘
گذشتہ ماہ جہانگیر ترین نے اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی کے اعزاز میں عشائیہ دیا تھا جس میں تقریباً 29 اراکین اسمبلی نے شرکت کی تھی۔ جہانگیر ترین کی جانب سے دیے جانے والے خصوصی عشائیے میں 8 ارکان قومی اسمبلی، 2 صوبائی وزراء اور 4 صوبائی مشیران سمیت 21 اراکین پنجاب اسمبلی نے شرکت کی تھی۔

اس عشائیے کے بعد سے خبریں گردش کر رہی تھیں کہ جہانگیر ترین اپنا گروپ بنا رہے ہیں اور بالآخر اب اس گروپ کا باقاعدہ اعلان بھی کردیا گیا ہے۔
اس سے قبل کیا کیا ہوا؟
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے جہانگیر ترین اور ان کے صاحبزادے علی ترین کے خلاف منی لانڈرنگ اور مالیاتی فراڈ کے مقدمات درج کیے تھے۔ جہانگیر ترین اور ان کے صاحبزادے کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 406، 420 اور 109 جبکہ انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ کی دفعہ 3/4 کے تحت 2 علیحدہ مقدمات درج کیے گئے تھے۔
ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا کہ جہانگیر ترین کی جانب سے انکوائری کے دوران سرکاری شیئر ہولڈرز کے پیسے کے غبن کی سوچی سمجھی اور دھوکہ دہی پر مبنی اسکیم سامنے آئی جس میں جہانگیر ترین کی کمپنی جے ڈی ڈبلیو نے دھوکا دہی کے ذریعے 3 ارب 14 کروڑ روپے فاروقی پلپ ملز لمیٹڈ (ایف پی ایم ایل) کو منتقل کیے تھے۔ ایف پی ایم ایل جہانگیر ترین کے صاحبزادے اور قریبی عزیزوں کی ملکیت ہے۔ اس کے بعد جہانگیر ترین اور ان کے صاحبزادے علی ترین نے لاہور کی سیشن کورٹ سے عبوری ضمانت حاصل کرلی تھی۔
جہانگیر ترین اور ان کے صاحبزادے علی ترین نے مؤقف اپنایا تھا کہ کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا لیکن ایف آئی اے نے بے بنیاد مقدمہ درج کیا۔ عدالت نے دونوں کی عبوری ضمانت منظور کرلی تھی اور ایف آئی اے سے 10 اپریل تک مقدمے کا مکمل ریکارڈ طلب کیا تھا۔
گذشتہ برس 21 فروری کو وفاقی حکومت نے ملک بھر میں چینی کی قیمت میں اچانک اضافے اور اس کے بحران کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اس انکوائری کمیٹی نے 4 اپریل کو اپنی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ جہانگیر ترین کے گروپ کو چینی کی برآمد اور قیمت میں اضافے کا سب سے زیادہ فائدہ ہوا جبکہ برآمد اور اس پر سبسڈی دینے سے ملک میں چینی کا بحران پیدا ہوا تھا۔

انکوائری کمیٹی کی تحقیقات کے مطابق جنوری 2019 میں چینی کی برآمد سمیت سال 19-2018 میں فصلوں کی کٹائی کے دوران گنے کی پیدوار میں کمی کا امکان تھا اور اس لیے چینی کی برآمد کا جواز نہیں تھا جس کے باعث سے مقامی بازاروں میں چینی کی قیمت تیزی سے بڑھی۔
21 مئی 2020 کو چینی بحران پر ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ کا فرانزک آڈٹ کرنے والے کمیشن کی حتمی رپورٹ وفاقی حکومت منظرعام پر لائی تھی۔ رپورٹ کے مطابق چینی کی پیداوار میں 51 فیصد حصے دار 6 گروہوں کا آڈٹ کیا گیا تھا۔ آڈٹ میں سے الائنس ملز، جے ڈی ڈبلیو گروپ اور العربیہ مل اوور انوائسنگ کو 2 کھاتے رکھنے اور بے نامی فروخت میں ملوث پایا گیا تھا۔
7 جون 2020 کو وزیر اعظم عمران خان نے شوگر کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں چینی اسکینڈل میں ملوث افراد کے خلاف سفارشات اور سزا کو منظور کرتے ہوئے کارروائی کی ہدایت کی تھی۔ انکوائری کمیشن کی جانب سے چینی بحران کی فرانزک آڈٹ رپورٹ جاری کرنے سے قبل ہی جہانگیر ترین بیرون ملک چلے گئے تھے۔ جون میں جہانگیر ترین انگلینڈ روانہ ہوگئے تھے۔
جہانگیر ترین کئی ماہ تک انگلینڈ میں قیام کے بعد نومبر 2020 میں وطن واپس آئے تھے اور لاہور میں علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے بتایا تھا کہ وہ علاج کے لیے بیرون ملک گئے تھے۔ اس مقصد کے لیے وہ گذشتہ 7 سال سے بیرون ملک جا رہے ہیں اور علاج مکمل ہونے کے بعد اب وطن واپس آگئے ہیں۔









