ن لیگ کی لندن میں عدالتی معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش
لندن پولیس کے مطابق مبینہ حملہ آوروں کے ہاتھوں میں کسی قسم کے اسلحے کی بجائے کاغذات تھے، 24 گھنٹے بعد ویڈیو جاری کرنے سے معاملے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
برطانیہ میں مقیم ن لیگ کے بانی نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز کے دفتر پر مبینہ حملے کو (ن) لیگ کی قیادت سیاسی رنگ دینے کی کوشش کررہی ہے۔ لندن پولیس نے واقعے پر ابتدائی رپورٹ جاری کرتےہوئے کہا ہے مذکورہ واقعہ جمعرات کو پیش آیا جبکہ ن لیگ نے جمعے کو اس کی اطلاع دی تھی۔
لندن پولیس کا کہنا ہے کہ حسن نواز کے دفتر آنے والے چاروں افراد غیر مسلح تھے۔ جائے وقوعہ پر حملہ ہوا اور نہ ہی کوئی تشدد کا واقعہ پیش آیا۔ واقعے کے 24 گھنٹے بعد ویڈیو سامنے لانے سے سوالات اٹھ گئے کہ کیا واقعے کی ویڈیو ایڈٹ کرکے میڈیا کو جاری کی گئی ہے؟
لندن پولیس کے مطابق ویڈیو میں ن لیگ کے رہنما مبینہ حملہ آوروں کو اطمینان سے جانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مبینہ حملہ آوروں کے ہاتھوں میں کسی قسم کے اسلحے کی بجائے کاغذات تھے لیکن مبینہ حملہ آور بھی جلدی میں نہیں تھے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے لندن میں میاں نواز شریف اور حسن نواز پر مبینہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں کہا ہے کہ ’خدا کسی کو کم ظرف اور بزدل دشمن نہ دے۔‘
یہ بھی پڑھیے
پاکستان پیپلز پارٹی بدین کے ضمنی انتخاب میں بڑے فرق سے کامیاب
نواز شریف کی زندگی کے ساتھ دوران حراست کھلواڑ کرنے والے اب تک باز نہیں آئے۔نواز شریف کا مقابلہ اس سوچ سے ہے جس نے میری بیمار والدہ کی تصویریں بنانے کی کوشش کی،ہوٹل میں میرے کمرے کا دروازہ توڑا اور آج پھر نواز شریف پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی۔ خدا کسی کو کم ظرف اور بزدل دشمن نہ دے
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) May 21, 2021
وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور شہباز گل نے مریم نواز کے ٹوئٹ پر ردعمل دیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے بانی نواز شریف کو پاکستان آنے کا مشورہ دیا ہے۔
اللہ محفوظ رکھے۔ حیرانی کی بات ہے کہ وہ خود لندن گئے اور واپس آنے کو تیار نہیں اب وہاں پر ان کی سیکورٹی کی زمہ داری آپ اپنے سیاسی مخالفین پر ڈال رہی ہیں۔اب بھی وقت ہے اگر آپ کے والد لندن میں محفوظ محسوس نہیں کر رہے تو انہیں فورا واپس آنا چاہئیے۔یہاں جیل میں مکمل سیکورٹی ملے گی۔ pic.twitter.com/DwpxyU6Bu6
— Dr. Shahbaz GiLL (@SHABAZGIL) May 21, 2021
لندن میں میاں نواز شریف اور حسن نواز پر مبینہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے لندن پولیس اور متعلقہ حکام سے واقعے کی مکمل تحقیقات کرانے اور ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
شہباز شریف نے مبینہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں کہا ہے کہ ’لندن میں حسن نواز کے دفتر میں حملے کی نیت سے لوگوں کا گھس آنا قابل مذمت، شرمناک اور تشویشناک امر ہے۔ لیکن شکر ہے کہ وہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکے۔‘
Strongly condemn cowardly attempt to barge into the office of Hussain Nawaz where Mian Nawaz Sharif was also present. They seemed to be armed and clearly had a sinister design but thankfully, could not succeed. London police must investigate the incident from all angles.
— Shehbaz Sharif (القدس في العيون) (@CMShehbaz) May 21, 2021
دوسری جانب پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز نے محمد نوازشریف پر حملے کی کوشش کی مذمت کی ہے۔
ایک بیان میں حمزہ شہباز نے کہا کہ نوازشریف پاکستان کے عوام کے دل میں بستے ہیں اور یہ حملہ عوام پر حملہ ہے، عوام مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کے قائد پرحملہ کرنے والوں کو بے نقاب کرکے عبرت کا نشان بنایاجائے۔









