کراچی میں پانی کی قلت کا مسئلہ سنگین
رکن قومی اسمبلی عطاء اللہ کا کہنا ہے کہ ’پانی کا مسئلہ حل کرنے کے لیے تحریک انصاف نے سندھ کے محکمہ واٹر بورڈ کو 4 جون تک مہلت دی ہے۔
پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں پانی کی قلت کا مسئلہ سنگین ہوگیا ہے۔ حکومتی اراکین قومی اسمبلی نے اپنے ہی رکن امجد نیازی کے خلاف احتجاج کیا اور ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔
قومی اسمبلی کے حلقے 250 سے منتخب رکن قومی اسمبلی عطاء اللہ اپنے حلقے میں پانی کی شدید قلت پر پریشان ہیں۔ نیوز 360 سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ رمضان المبارک میں ان کے حلقے کی عوام نے سخت تکلیف اٹھائی ہے۔ وہ اپنے حلقے میں پانی کی قلت دور نہ کرنے پر عوام سے شرمندہ ہیں۔ وفاقی حکومت نے انہیں 25 کروڑ روپے کا فنڈ دیا تھا جس میں سے انہوں نے سب سے زیادہ اخراجات پانی کی پائپ لائنز بچھانے پر کیے۔
پائپ لائنز تو بچھ گئیں لیکن پانی کا کنکشن نہیں ملا۔ کنکشن مانگا گیا تو سندھ حکومت کا محکمہ واٹر بورڈ ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے۔ جن لوگوں نے پانی کے کنکشن خود سے لیے ان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستان سویٹ ہومز کے تحت کیڈٹ کالج تکمیل کے قریب
اراکین اسمبلی کی اب حکمت عملی کیا ہوگی؟
رکن قومی اسمبلی عطاء اللہ نے کہا کہ ’کراچی میں پانی کا مسئلہ حل کرنے کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے سندھ کے محکمہ واٹر بورڈ کو 4 جون تک کی مہلت دی ہے۔ اگر ان کے حلقوں میں پانی کے کنکشن نہ دیے گئے تو 4 جون کے بعد شاہراہ فیصل کراچی پر محکمہ واٹر بورڈ کے سامنے احتجاج کیا جائے گا۔ شاہراہ فیصل بند کی جائے گی پانی کا مسئلہ حل ہونے تک احتجاج جاری رہے گا۔‘
کراچی کو دارالخکلافہ قرار دے کر وفاق کے زیر انتظام کرنے کا مطالبہ کیا ہے؟
عطاء اللہ نے نیوز 360 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’سندھ حکومت مسلسل کراچی کو نظر انداز کر رہی ہے۔ صوبائی حکومت کراچی کے شہریوں کے ساتھ سوتیلی ماں والا سلوک کر رہی ہے۔ عوام پانی کے لیے چیخ و پکار کر رہے ہیں اور میڈیا بھی شور مچا رہا ہے۔ ایوان میں اس مسئلے پر تقاریر ہو رہی ہیں لیکن صوبائی حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی ہے۔ اس لیے ہم مطالبہ کر رہے ہیں کہ کراچی کو دوسرا دارالخلافہ قرار دیا جائے۔ یہ پہلے بھی دارالخلافہ رہا ہے اور اب اسے دارالخلافہ قرار دے کر وفاق کے انتظام کیا جائے تاکہ عوام کے مسائل سندھ حکومت کے بجائے وفاقی حکومت کے ذمہ ہوں اور لوگوں کی داد رسی کی جائے۔‘
قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
رکن قومی اسمبلی عطاء اللہ نے 21 مئی کو قومی اسمبلی کے اجلاس سے واک آؤٹ کیا تھا۔ اس سلسلے میں کراچی کے تین اراکین قومی اسمبلی این اے 237 سے جمیل احمد خان، این اے 241 سے فہیم خان اور این اے 250 سے عطاء اللہ نے توجہ دلاؤ نوٹس پر بولنے کے لیے وقت مانگا ہے۔ اس وقت قومی اسمبلی کے اجلاس کی صدارت پینل آف چیئر کے رکن امجد نیازی کر رہے تھے۔ امجد نیازی نے کہا کہ انہیں مختلف قوانین، بلز اور آرڈیننسز ایوان میں پیش کرانے ہیں اور قومی اسمبلی کا اصل کام قانون سازی ہے، اس لیے توجہ دلاؤ نوٹس پر بولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
جس کے بعد تینوں اراکین قومی اسمبلی نے احتجاج شروع کردیا اور عطاء اللہ واک آؤٹ کر کے قومی اسمبلی سے چلے گئے۔ بعدازاں انہیں منا کر اجلاس میں لایا گیا۔ عطاء اللہ نے پھر اپنی تقریر میں فلسطین کی صورت حال اور کراچی میں پانی کی قلت پر بات کی۔









