اراکین پنجاب اسمبلی چوہدری نثار کے حلف اٹھانے کو معمولی سمجھتے ہیں

پاکستان میں ان دنوں جہانگیر ترین گروپ اور چوہدری نثار علی خان کا اچانک حلف اٹھانا زیربحث ہے۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی سیاست میں ایک طرف ترین گروپ اور دوسری طرف چوہدری نثار علی خان کا اچانک حلف اٹھانا زیربحث ہے۔ نیوز 360 نے اس حوالے سے اراکین اسمبلی گفتگو کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا جہانگیرترین کا گروپ اور چوہدری نثار علی خان اچانک انٹری سے پنجاب میں ان ہاؤس تبدیلی لا سکتے ہیں۔

اراکین اسمبلی کا جہانگیرترین گروپ سے متعلق اظہار خیال

نیوز 360 نے ترین گروپ کے تحفظات اور چوہدری نثار علی کے اچانک حلف اُٹھانے پر اراکین اسمبلی سے بات کی جس پر اراکین اسمبلی نے انہیں معمول کی سرگرمیاں قرار دیا ہے۔ حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے اراکین پنجاب اسمبلی اور صوبائی وزیر یاسر ہمایوں، اعجاز اگسٹیٹ اور سعدیہ سہیل رانا نے کہا کہ جہانگیرترین کے لوگ پارٹی میں موجود ہیں۔ ان کے حلقے کے مسائل کے حوالے سے تحفظات تھے جو تقریباً ختم کردیے گئے ہیں۔ جہانگیرترین پارٹی کا حصہ تھے اور آگے بھی ساتھ ہوں گے۔ جہانگیرترین کا کیس کوئی انتقامی کارروائی نہیں بلکہ احتسابی عمل ہے۔ جو فیصلہ ہوگا قانون کے مطابق ہوگا۔

جہانگیرترین گروپ کے معاملے پر مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی عظمیٰ زاہد بخاری، میاں عبد الرؤوف، صبا صادق، بشریٰ بٹ، ملک محمد احمد خان، میاں مرغوب احمد اور مرزا جاوید کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) سے ن اور ش کو نکالنے والوں کو خود شکست ہوئی ہے اور ان کے پی ٹی آئی سے ٹی نکل گیا۔ ترین گروپ نے جو حاصل کرنا تھا وہ ان کو مل گیا ہے۔ یہ ان کی آپسی لڑائی تھی جبکہ (ن) لیگ سے ترین گروپ کا کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔ یہ حکومت اپنے کارناموں کی وجہ سے خود خرابیوں کا شکار ہورہی ہے۔

اراکین اسمبلی کا چوہدری نثار کے حلف اٹھانے پر اظہار خیال

چوہدری نثار علی خان کے اچانک حلف اٹھانے اور وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کے امکانات کو اراکین صوبائی اسمبلی نے عام بات قرار دیا ہے۔ نیوز 360 نے چوہدری نثار کے حوالے سوال کیا تو حکومت اور حزب اختلاف کے اراکین اسمبلی نے کہا کہ چوہدری نثار علی خان سینیئر سیاستدان ہیں اور وہ پنجاب کی نشست سے منتخب ہو چکے ہیں۔ حلف اٹھانا ان کا آئینی حق ہے۔ ان کو اب تک حلف اٹھا لینا چاہیے تھا۔ اب بھی وہ حلف اٹھاتے ہیں تو اچھی بات ہے مگر ان کے وزیر اعلیٰ بننے کا ابھی کوئی امکان نہیں۔

چوہدری نثار نئے وزیراعلیٰ پنجاب ہوں گے؟
Dawn

لیگی رہنماؤں نے چوہدری نثار علی خان کی پنجاب کی سیاست میں آنے سے متعلق زیادہ کھل کر بات نہیں کی اور کہا کہ وہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ایک عرصہ رہے ہیں۔ اب ان کے حوالے سے پارٹی جو فیصلہ کرے وہی ہوگا۔ اب دیکھنا ہے کہ چوہدری نثار علی خان حلف اٹھاتے ہیں تو پھر آگے کیا ہوگا؟‘

صوبائی وزیر یاسر ہمایوں نے چوہدری نثار علی کے حلف اٹھانے کی وجہ انتخابی اصلاحات قرار دیتے ہوئے کہا کہ تین ماہ تک حلف نہ اٹھانے والے منتخب رکن کی نشست پر دوبارہ الیکشن کروائے جانے کا آرڈیننس ہیں۔

جہانگیرترین گروپ کی وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی کہانی

جہانگیرترین گروپ کی تحفظات دور کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے ناراض اراکین اسمبلی کی ترین گروپ کے پارلیمانی لیڈر پنجاب سعید اکبر نوانی کی سربراہی میں جمعے کے روز ملاقات ہوئی۔ وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات کرنے والوں میں سعید اکبر نوانی، اجمل چیمہ، نعمان لنگڑیال، زوار وڑائچ، نذیر چوہان، عمر آفتاب اور عون چوہدری شامل تھے۔

Pakistan Today

اس ملاقات میں ترین گروپ کے اراکین اسمبلی کے تحفظات دور کروانے کی یقین دہائی کروائی گئی جس کے بعد اراکین اسمبلی نے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ سعید اکبر نوانی کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ترین گروپ کے لوگوں کی وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات تسلی بخش رہی۔ ہم ایک تھے، ایک ہیں اور ایک رہیں گے۔ اس جماعت سے غیر مشروط وابستگی برقرار رہے گی۔

سعید اکبر نوانی نے کہا کہ ہم الگ سیٹ پر نہیں بیٹھیں گے۔ اپنے گروپ اور پارٹی کے ساتھ رہتے ہوئے معاملات حل کریں گے۔ گروپ کے لوگوں کے تحفظات ہوتے ہیں اور وہ پھر دور بھی ہو جاتے ہیں۔ ہم الگ نشستوں کے بجائے گروپ میں رہتے ہوئے پارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ سردار عثمان بزدار کو وزیر اعلیٰ سمجھتے ہیں۔

دوسری جانب پنجاب حکومت کی جانب سے وزیراعلیٰ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ’وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں متحد ہیں، کبھی کسی سے ناانصافی کی نہیں کریں گے۔ آپ کے جائز تحفظات کا ازالہ کیا جائے گا۔ ہماری جماعت کا نام تحریک انصاف ہے اور ہم انصاف کی عملداری پر یقین رکھتے ہیں۔‘

متعلقہ تحاریر