وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسمبلی کے کسی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے
145 کے ایوان میں 2 ارکان اسمبلی ایسے ہیں جنہوں نے تمام یعنی 33 اجلاسوں میں شرکت کی ہے۔

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں صوبائی اسمبلی کے تیسرے پارلیمانی سال کے دوران منعقدہ 33 اجلاسوں میں اراکین نے عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا اور اجلاسوں سے غیرحاضر رہے۔
خیبرپختونخوا اسمبلی کے 145 کے ایوان میں 2 اراکین اسمبلی پورے سال کے دوران ایک بھی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ صرف 2 اراکین اسمبلی ایسے ہیں جنہوں نے تمام یعنی 33 اجلاسوں میں شرکت کی ہے۔ ان اراکین میں مرد کا تعلق حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف جبکہ خاتون کا تعلق حزب اختلاف کی جماعت جمعیت علمائے اسلام سے ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اراکین خیبرپختونخوا اسمبلی کی اسپتال میں توڑ پھوڑ
خیبرپختونخوا اسمبلی کے اراکین کی عدم دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسمبلی میں قائد ایوان اور پی کے 9 سوات سے منتخب وزیر اعلیٰ محمود خان نے تیسرے پارلیمانی سال کے دوران منعقدہ ایک بھی اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ جبکہ پی کے 90 بنوں سے منتخب قائد حزب اختلاف اکرم خان درانی صرف 4 اجلاسوں میں شرکت ممکن بنا سکے ہیں۔
صوابی سے صوبائی اسمبلی کے حلقے پی کے 46 سے منتخب پاکستان تحریک انصاف کے محمد علی ترکئی بھی ایک سال سے ایک بھی اجلاس کو اپنا دیدار نصیب نہ کراسکے ہیں۔ پی کے 107 ضلع خیبر سے منتخب ہونے والے تحریک انصاف کے محمد شفیق نے تمام 33 اجلاسوں میں شرکت کر کے حاضر ترین رکن اسمبلی کا اعزاز اپنے نام کرلیا ہے۔
خیبرپختونخوا اسمبلی میں پی کے 50 مردان سے منتخب محمد عاطف سب سے زیادہ غیر حاضر رہے اور پارلیمانی سال کے دوران انہوں نے صرف ایک مرتبہ اسمبلی اجلاس میں شرکت کی۔ جبکہ صوابی کے حلقے پی کے 47 سے منتخب شہرام ترکئی صرف 4 اجلاسوں میں شرکت سکے ہیں۔
پی کے 87 بنوں سے منتخب پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے پارلیمانی رہنما شیر اعظم وزیر پارلیمانی رہنماؤں میں سب سے زیادہ غیر حاضر رہنے والے رکن اسمبلی ہیں۔ مرد اراکین اسمبلی میں پی کے 53 مردان سے پی ٹی آئی کے عبدالسلام آفریدی 32 اجلاسوں میں شرکت کر کے دوسرے حاضرترین امیدوار ثابت ہوئے ہیں۔

اسی طرح 33 میں سے 31 اجلاسوں میں شرکت کر کے تیسرے نمبر پر آنے والے اراکین اسمبلی میں پی کے 17 دیر لوئر سے پی ٹی آئی کے لیاقت علی خان، پی کے 15 لوئر دیر سے وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے جیل خانہ جات شفیع اللہ، پی کے 59 چارسدہ سے صوبائی وزیر فضل شکور خان اور پی کے 88 بنوں سے پی ٹی آئی کے پختون یار خان شامل ہیں۔
خواتین کی مخصوص نشست پر منتخب جمعیت علمائے اسلام کی نعیمہ کشور خان 33 اجلاسوں میں شرکت کر کے پہلے نمبر پر رہی ہیں۔ جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی نگہت اورکزئی، پی ٹی آئی کی سمیرا شمس، جماعت اسلامی کی حمیرا خاتون اور عوامی نیشنل پارٹی کی شگفتہ ملک نے 33 میں سے 32 اجلاسوں میں شرکت کر کے دوسری اور جمعیت علمائے اسلام کی ریحانہ اسمٰعیل 33 میں سے 31 اجلاسوں میں شرکت کر کے تیسرے نمبر پر رہی ہیں۔ خواتین رکن اسمبلی میں سب سے زیادہ غیرحاضر رہنے والی خواتین میں پی ٹی آئی کی ملیحہ علی اصغر خان نے صرف 3 اور نادیہ شیر نے صرف 4 اجلاسوں میں شرکت کی ہے۔
خیبرپختونخوا کے اراکین نے رواں پارلیمانی سال میں منعقدہ 33 اجلاسوں کے دوران پی کے 1 چترال سے ایم ایم اے کے ہدایت الرحمٰن 22، پی کے 2 سوات سے پاکستان تحریک انصاف کے شرافت علی 28، پی کے 4 سوات سے پی ٹی آئی کے منتخب عزیز اللہ 23، پی کے 5 سوات سے پی ٹی آئی کے فضل حکیم خان 23، پی کے 6 سوات سے صوبائی وزیر امجد علی 26، پی کے 7 سوات سے اے این پی کے وقار احمد خان 30 اور پی کے 8 سوات سے منتخب صوبائی وزیر محب اللہ 12 اجلاسوں میں شریک ہوئے۔
پی کے 10 دیر بالا سے پیپلز پارٹی کے ملک بادشاہ صالح نے 22، پی کے 11 دیربالا سے پیپلز پارٹی سے ثناءاللہ نے 19، پی کے 12 دیر بالا سے جماعت اسلامی کے عنایت اللہ نے 28، پی کے 13 لوئر دیر سے پی ٹی آئی کے اعظم خان نے 30، پی کے 14 لوئر دیر سے پی ٹی آئی کے ہمایون خان نے 20 اور پی کے 16 دیر لوئر سے اے این پی کے بہادر خان نے 25 اجلاسوں میں شرکت کی تھی۔
پی کے 18 ملاکنڈ سے پی ٹی آئی کے صوبائی وزیر شکیل احمد 9، پی کے 19 ملاکنڈ سے پی ٹی آئی کے مصور خان 6، پی کے 20 بونیر سے پی ٹی آئی کے ریاض خان 22، پی کے 21 بونیر سے پی ٹی آئی کے سید فخر جہان 16، پی کے 23 شانگلہ سے صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی 26، پی کے 24 شانگلہ سے اے این پی کے فیصل زیب 27، پی کے 25 کوہستان سے پی ٹی آئی کے محمد دلدار 19، پی کے 26 کوہستان لوئر سے پی ٹی آئی کے عبد الغفار 25، پی کے 27 کولئی پالس کوہستان سے مسلم لیگ (ق) کے عبید الرحمٰن 19، پی کے 28 بٹگرام سے پی ٹی آئی کے زبیر خان 23، پی کے 29 بٹگرام سے وزیر اعلیٰ کے معاﺅن خصوصی برائے توانائی تاج محمد ترند 29 اجلاسوں میں شرکت کر سکے ہیں۔ ِ
پی کے 30 مانسہرہ سے منتخب سید احمد حسین شاہ 11، پی کے 31 مانسہرہ سے پی ٹی آئی کے بابر سلیم سواتی 29، پی کے 32 مانسہرہ سے مسلم لیگ (ن) کے محمد نعیم 24، پی کے 33 مانسہرہ سے پی ٹی آئی کے نوابزادہ فرید صلاح الدین 19، پی کے 34 مانسہرہ سے مسلم لیگ (ن) کے سردار یوسف زمان 17، پی کے 35 تورغر سے اے این پی کے لائق محمد خان 20، پی کے 36 ایبٹ آباد سے پی ٹی آئی کے نذیر احمد عباسی 10، پی کے 37 ایبٹ آباد سے مسلم لیگ (ن) کے سردار اورنگزیب نلوٹھا 19 اور پی کے 38 ایبٹ آباد سے صوبائی وزیر قلندر خان لودھی 29 اجلاسوں میں شریک ہوئے۔
پی کے 39 ایبٹ آبادسے اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی مشتاق احمد غنی 26، پی کے 40 ہری پور سے صوبائی وزیر اکبر ایوب خان 20، پی کے 41 ہری پور سے پی ٹی آئی کے ارشد ایوب خان 23، پی کے 42 ہری پور سے آزاد منتخب فیصل زمان 10، پی کے 43 صوابی سے پی ٹی آئی کے رنگیز احمد 27، پی کے 44 صوابی سے پی ٹی آئی کے عاقب اللہ خان 10، پی کے 45 صوابی سے معاون خصوصی عبدالکریم نے 24، پی کے 48 مردان سے پی ٹی آئی کے ملک شوکت علی 28 اور پی کے 49 مردان سے پی ٹی آئی کے طفیل انجم 21 اجلاسوں شرکت کر سکے ہیں۔

پی کے 51 مردان سے پی ٹی آئی کے امیر فرزند خان 18، پی کے 52 مردان سے پی ٹی آئی کے ظاہر شاہ طورو 20، پی کے 54 مردان سے پی ٹی آئی کے افتخار علی 22، پی کے 55 مردان سے مسلم لیگ (ن) کے جمشید خان 19، پی کے 56 چارسدہ سے پی ٹی آئی کے خالد خان 16، پی کے 57 چارسدہ سے اے این پی کے شکیل بشیر خان 23، پی کے 58 چارسدہ سے سابق صوبائی وزیر سلطان محمد خان 17، پی کے 60 چارسدہ سے معاون خصوصی محمد عارف احمد زئی 24، پی کے 61 نوشہرہ سے پی ٹی آئی کے محمد ابراہیم خٹک 13 اور پی کے 62 نوشہرہ سے پی ٹی آئی کے محمدادریس 14 اجلاسوں میں حاضری لگا چکے ہیں۔
پی کے 63 نوشہرہ سے مسلم لیگ (ن) کے اختیار ولی نے 10 اجلاسوں میں سے 9 میں شرکت کی۔ پی کے 64 نوشہرہ سے سابق صوبائی وزیر لیاقت خان خٹک 6، پی کے 65 نوشہرہ سے وزیر اعلیٰ کے مشیر خلیق الرحمن 30، پی کے 66 پشاور سے ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی محمود جان 27، پی کے 67 پشاور سے پی ٹی آئی کے ارباب محمد وسیم خان 27، پی کے 68 پشاور سے پی ٹی آئی کے ارباب جہانداد خان 20، پی کے 69 پشاور سے صوبائی وزیر سید محمد اشتیاق 12، پی کے 70 پشاور سے اے این پی خوشدل خان 29، پی کے 71 پشاور سے اے این پی کے صلاح الدین 29 اور پی کے 72 پشاور سے پی ٹی آئی کے فہیم احمد 22 اجلاسوں میں شریک ہوئے۔
پی کے 73 پشاور سے صوبائی وزیر تیمور سلیم جھگڑا 13، پی کے 74 پشاور سے پی ٹی آئی کے پیر فدا محمد 5، پی کے 75 پشاور سے پی ٹی آئی کے واجداللہ خان 20، پی کے 76 پشاور سے پی ٹی آئی کے آصف خان نے 11، پی کے 77 پشاور سے معاون خصوصی کامران بنگش 25، پی کے 78 سے اے این پی کی ثمر ہارون بلور 12، پی کے 79 سے پی ٹی آئی کے فضل الہیٰ 20، پی کے 80 کوہاٹ سے پیپلزپارٹی کے امجد خان آفریدی 8، پی کے 81 کوہاٹ سے جے یو آئی کے شاہ داد خان 20، پی کے 82 کوہاٹ سے سابق مشیر ضیاء اللہ خان بنگش 14، پی کے 83 ہنگو سے پی ٹی آئی کے شاہ فیصل خان 21 اجلاسوں میں شرکت کر کے عدم دلچسپی کا ثبوت پیش کرچکے ہیں۔
پی کے 84 ہنگو سے پی ٹی آئی کے محمد ظہور نے 29، پی کے 85 کرک سے جمعیت علمائے اسلام کے میاں نثار گل کاکا خیل نے 17، پی کے 86 کرک سے جمعیت علمائے اسلام کے ظفر اعظم نے 20، پی کے 87 بنوں سے پیپلزپارٹی کے شیر اعظم وزیر نے 8، پی کے 89 بنوں سے صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ شاہ محمد خان نے 13، پی کے 91 لکی مروت سے جے یو آئی کے منور خان نے 18، پی کے 92 لکی مروت سے صوبائی وزیر ہشام انعام اللہ خان نے 9 اجلاسوں شرکت کی۔
پی کے 93 لکی مروت سے جے یوآئی کے انور حیات خان نے 5، پی کے 94 ٹانک سے جے یوآئی کے محمود احمد خان نے 17، پی کے 95 ڈیرہ اسماعیل خان سے آزادمنتخب احتشام جاوید نے 17، پی کے 96 ڈیرہ اسماعیل خان سے پیپلزپارٹی کے احمد کریم کنڈی نے 23، پی کے 97 ڈیرہ اسماعیل خان سے پی ٹی آئی کے فیصل امین گنڈاپور نے 14 اجلاسوں میں شرکت کر کے عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔
پی کے 98 ڈیرہ اسماعیل خان سے جے یو آئی کے مولانا لطف الرحمٰن 26، پی کے 99 ڈیرہ اسماعیل خان سے پی ٹی آئی کے آغاز اکرام اللہ گنڈاپور 10، پی کے 100 باجوڑ سے صوبائی وزیر انوار زیب خان 26، پی کے 101 باجوڑ سے پی ٹی آئی کے اجمل خان 29، پی کے 102 باجوڑ سے جماعت اسلامی کے سراج الدین 15، پی کے 103 مہمند سے اے این پی کے نثار مومند 27 اجلاسوں میں شریک ہوئے۔
پی کے 104 مہمند سے بلوچستان عوامی پارٹی کے عباس الرحمٰن 25، پی کے 105 خیبر سے بلوچستان عوامی پارٹی کے شفیق آفریدی 24، پی کے 106 خیبر سے بلوچستان عوامی پارٹی کے بلاول آفریدی 18، پی کے 107 خیبر سے پی ٹی آئی کے محمد شفیق 33، پی کے 108 کرم سے جمعیت علمائے اسلام کے محمد ریاض 26 اور پی کے 109 کرم سے پی ٹی آئی کے سید اقبال میاں 10 اجلاسوں میں شریک ہوئے۔
پی کے 110 اورکزئی سے پی ٹی آئی کے غازی غزن جمال نے 9 ،پی کے 111 شمالی وزیرستان سے صوبائی وزیر محمد اقبال خان نے 17، پی کے 112 شمالی وزیرستان سے آزاد رکن میر کلام وزیر نے 30، پی کے 113 جنوبی وزیرستان سے جے یو آئی کے حافظ عصام الدین نے 22، پی کے 114 جنوبی وزیرستان سے پی ٹی آئی کے نصیر اللہ خان نے 23 اور پی کے 115 ایف آر سے جے یو آئی کے محمد شعیب نے 27 اجلاسوں میں شرکت کی۔
خواتین کی مخصوص نشستوں پر منتخب تحریک انصاف کی نادیہ شیر نے صرف 4، ملیحہ علی اصغر نے 3، عائشہ نعیم نے 29، مومنہ باسط نے 9، سمیرا شمس نے 32، رابعہ بصری نے 27، آسیہ اسد نے 29، ساجدہ حنیف نے 26، سومی فلک ناز نے 23، عائشہ بانو نے 24، ستارہ آفرین نے 20، زینت بی بی نے 19، آسیہ صالح خٹک نے 31 اجلاسوں میں شرکت کی۔
ماریہ فاطمہ 15، سمیہ بی بی نے 29، مدیحہ نثار نے 24، عائشہ بی بی نے 25، انیتہ محسود نے 20، جمعیت علمائے اسلام کی ریحانہ اسماعیل نے 31، جماعت اسلامی کی حمیرا خاتون نے 32، عوامی نیشنل پارٹی کی شگفتہ ملک نے 32، عوامی نیشنل پارٹی کی شاہدہ نے 27، مسلم لیگ (ن) کی ثوبیہ شاہد نے 23 اور پیپلز پارٹی کی نگہت اورکزئی نے 32 اجلاسوں میں شرکت کی۔
جمعیت علمائے اسلام کی نعیمہ کشور 33، بلوچستان عوامی پارٹی کی بصیرت بی بی 27، تحریک انصاف کے اقلیتی رکن روی کمار 31، معاون خصوصی برائے اقلیتی امور وزیر زادہ 27، جمعیت علمائے اسلام کے اقلیتی رکن رنجیت سنگھ 21 اورتحریک انصاف کے اقلیتی رکن ولسن وزیر 29 اجلاسوں میں شرکت کی۔









