عاصمہ شیرازی کو شفاء یوسفزئی سے سیکھنے کی ضرورت
مخدوم شہاب الدین نامی ولاگر اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ نے سینیئر صحافی و اینکر پرسن عاصمہ شیرازی پر الزامات کی بوچھاڑ کی ہے۔

مخدوم شہاب الدین نامی ولاگر اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ نے سینیئر صحافی و اینکر پرسن عاصمہ شیرازی پر الزامات کی بوچھاڑ کی ہے۔ مبصرین نے عاصمہ شیرازی کو شفاء یوسفزئی کی پیروی کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
اتوار کے روز پاکستان میں ’شہاب لیکس‘ ٹوئٹر پر ٹرینڈ کرتا رہا۔ یہ ٹرینڈ دراصل مخدوم شہاب الدین نامی ولاگر کی جانب سے سینیئر صحافی و اینکر پرسن عاصمہ شیرازی پر الزامات کی وجہ سے چل رہا تھا۔
مخدوم شہاب الدین نے اپنی ویڈیو میں دعویٰ کیا کہ ’ملک میں میڈیا کی آزادی کے نام پر انڈیا کے نیٹ ورکس چلائے جارہے ہیں۔ آزادی صحافت کے حقوق کے لیے پاکستان میں آواز اٹھانے والی ایک غیر سرکاری تنظیم فریڈم نیٹ ورک کی ویب سائٹ کا ڈی این ایس انڈیا میں موجود سرور سے منسلک ہے۔‘
This is called Investigative journalism #ShahabLeaks At its best pic.twitter.com/fqENT0w5OL
— Syeda Bushra (@Syeda_BushraK) June 5, 2021
انہوں نے خاتون اینکر پرسن عاصمہ شیرازی سے متعلق کہا کہ وہ پاکستان کے میڈیا پر پابندیوں سے متعلق فریڈم نیٹ ورک کی جس ویب سائٹ پر لکھتی ہیں یا اس سے منسلک ہیں وہ ویب سائٹ انڈیا سے چلائی جارہی ہے۔
جس کے بعد حمزہ اظہر سلام نامی صحافی نے مخدوم شہاب الدین کی ویب سائٹ کا ڈی این ایس بھی انڈیا میں موجود ایک سرور سے منسلک ہونے کا دعویٰ کیا۔
A DNS check of @ShahabSpeaks website https://t.co/6oxax7bO47 shows that it has a server in Kota, India. Shahab called @asmashirazi an Indian agent when she contributed to a website with a DNS server in India, what about his own website?
DNS check: https://t.co/bxWZQHMzxh pic.twitter.com/lFLwOziH57
— Hamza Azhar Salam (@HamzaAzhrSalam) June 6, 2021
مخدوم شہاب الدین کی جانب سے الزامات کا نشانہ بنائے جانے کے بعد سینئر صحافی اور اینکر پرسن عاصمہ شیرازی گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈز میں رہیں۔ اس الزام کے بعد کئی ٹوئٹر صارفین انہیں بھارتی ایجنٹ قرار دیتے نظرآئے تو دوسری جانب آزادی اظہار رائے کے لیے آواز اٹھانے والے صارفین ان کے حق میں ہیش ٹیگ ’آئی اسٹینڈ وِد عاصمہ شیرازی‘ کا ٹرینڈ چلاتے رہے۔ عاصمہ شیرازی کے حق میں آواز بلند کرنے والے افراد میں کئی سینیئر صحافی بھی شامل تھے۔
Those who are making allegations on @asmashirazi while sitting in western countries they should come back here and file cases in the Pakistani courts let the Pakistani courts decide who is the real enemy of Pakistan #IstandWithAsmaShirazi https://t.co/M4cWGisTdI
— Hamid Mir (@HamidMirPAK) June 6, 2021
When I was taken away she raised her voice for me. Today, #IStandWithAsmaShirazi and condemn the malicious campaign against her… @asmashirazi pic.twitter.com/fRjeUjam8E
— Bilal Farooqi (@bilalfqi) June 6, 2021
I’ve known @asmashirazi personally since at least 2012 and always found her to be an immensely decent and empathetic human being, who’s also very intelligent and someone with excellent values. We all know where the campaign originates. https://t.co/mK27VHmw7R
— Hasan Zaidi (@hyzaidi) June 6, 2021
عاصمہ شیرازی @asmashirazi بہت بہادر صحافی ہیں۔ظالم جابرحاکم وقت کےسامنے کلمۂ حق کہنے کی جرات رکھتی ہیں۔سیاہ کو سیاہ اور سفید کو سفید کہنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔
#IstandWithAsmaShirazi
کیونکہ #JournalismNotACrime
بہت طاقت و حوصلہ اس جری صحافی کے نام۔
جیتی رہیں عاصمہ
اللہ حفاظت کرے— Wajih Sani (@wajih_sani) June 6, 2021
Dogs bark. Caravans move. Stay strong @asmashirazi #IstandWithAsmaShirazi pic.twitter.com/2oU1550tqY
— Murtaza Solangi (@murtazasolangi) June 6, 2021
سینیئر اینکر پرسن حامد میر نے عاصمہ شیرازی کے حق میں بولتے ہوئے مخدوم شہاب الدین کو بیرون ملک مقیم ہونے کا طعنہ دیا تو انہوں نے اس کے جواب میں کہا کہ وہ بہت جلد واپس آرہے ہیں۔ انہوں نے حامد میر اور عاصمہ شیرازی کو ملک کا دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ جلد اُن سے عدالت میں ملیں گے۔
I’m here in Denmark for my studies. Coming back to Pakistan in a while.
You and Asma Shirazi! See you in court pic.twitter.com/syPLZOnwWN
— Makhdoom Shahab-ud-Din (@ShahabSpeaks) June 6, 2021
واضح رہے کہ پاکستان میں کسی سوشل میڈیا صارف یا ولاگر کی جانب سے صحافیوں پر الزام تراشی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ حال ہی میں صحافی و یوٹیوبر اسد علی طور نے شفاء یوسفزئی پر ذاتی نوعیت کے الزامات لگائے تھے جس کے بعد شفاء یوسفزئی نے عدالت جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ مبصرین کا کہنا ہے عاصمہ شیرازی اور ان کے حامیوں کو سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلانے کے بجائے اینکر شفاء یوسفزئی کی پیروی کرتے ہوئے مخدوم شہاب الدین کو عدالت لے جانا چاہیے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوسکے۔









