عاصمہ شیرازی کو شفاء یوسفزئی سے سیکھنے کی ضرورت

مخدوم شہاب الدین نامی ولاگر اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ نے سینیئر صحافی و اینکر پرسن عاصمہ شیرازی پر الزامات کی بوچھاڑ کی ہے۔

مخدوم شہاب الدین نامی ولاگر اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ نے سینیئر صحافی و اینکر پرسن عاصمہ شیرازی پر الزامات کی بوچھاڑ کی ہے۔ مبصرین نے عاصمہ شیرازی کو شفاء یوسفزئی کی پیروی کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

اتوار کے روز پاکستان میں شہاب لیکس ٹوئٹر پر ٹرینڈ کرتا رہا۔ یہ ٹرینڈ دراصل مخدوم شہاب الدین نامی ولاگر کی جانب سے سینیئر صحافی و اینکر پرسن عاصمہ شیرازی پر الزامات کی وجہ سے چل رہا تھا۔

مخدوم شہاب الدین نے اپنی ویڈیو میں دعویٰ کیا کہ ملک میں میڈیا کی آزادی کے نام پر انڈیا کے نیٹ ورکس چلائے جارہے ہیں۔ آزادی صحافت کے حقوق کے لیے پاکستان میں آواز اٹھانے والی ایک غیر سرکاری تنظیم فریڈم نیٹ ورک کی ویب سائٹ کا ڈی این ایس انڈیا میں موجود سرور سے منسلک ہے۔

انہوں نے خاتون اینکر پرسن عاصمہ شیرازی سے متعلق کہا کہ وہ پاکستان کے میڈیا پر پابندیوں سے متعلق فریڈم نیٹ ورک کی جس ویب سائٹ پر لکھتی ہیں یا اس سے منسلک ہیں وہ ویب سائٹ انڈیا سے چلائی جارہی ہے۔

جس کے بعد حمزہ اظہر سلام نامی صحافی نے مخدوم شہاب الدین کی ویب سائٹ کا ڈی این ایس بھی انڈیا میں موجود ایک سرور سے منسلک ہونے کا دعویٰ کیا۔

مخدوم شہاب الدین کی جانب سے الزامات کا نشانہ بنائے جانے کے بعد سینئر صحافی اور اینکر پرسن عاصمہ شیرازی گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈز میں رہیں۔ اس الزام کے بعد کئی ٹوئٹر صارفین انہیں بھارتی ایجنٹ قرار دیتے نظرآئے تو دوسری جانب آزادی اظہار رائے کے لیے آواز اٹھانے والے صارفین ان کے حق میں ہیش ٹیگ ’آئی اسٹینڈ وِد عاصمہ شیرازی‘ کا  ٹرینڈ چلاتے رہے۔ عاصمہ شیرازی کے حق میں آواز بلند کرنے والے افراد میں کئی سینیئر صحافی بھی شامل تھے۔

سینیئر اینکر پرسن حامد میر نے عاصمہ شیرازی کے حق میں بولتے ہوئے مخدوم شہاب الدین کو بیرون ملک مقیم ہونے کا طعنہ دیا تو انہوں نے اس کے جواب میں کہا کہ وہ بہت جلد واپس آرہے ہیں۔ انہوں نے حامد میر اور عاصمہ شیرازی کو ملک کا دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ جلد اُن سے عدالت میں ملیں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں کسی سوشل میڈیا صارف یا ولاگر کی جانب سے صحافیوں پر الزام تراشی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ حال ہی میں صحافی و یوٹیوبر اسد علی طور نے شفاء یوسفزئی پر ذاتی نوعیت کے الزامات لگائے تھے جس کے بعد شفاء یوسفزئی نے عدالت جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ مبصرین کا کہنا ہے عاصمہ شیرازی اور ان کے حامیوں کو سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلانے کے بجائے اینکر شفاء یوسفزئی کی پیروی کرتے ہوئے مخدوم شہاب الدین کو عدالت لے جانا چاہیے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوسکے۔

متعلقہ تحاریر