حامد میر پہلے سوچیں پھر بولیں

حامد میر نے گزشتہ دنوں دیئے گئے اپنے متنازع بیان پر معافی مانگ لی ہے۔

سینیئر اینکر پرسن اور پاکستان کے معروف صحافی حامد میر نے گزشتہ دنوں دیئے گئے اپنے متنازع بیان پر معافی مانگ لی ہے لیکن سوشل میڈیا مبصرین انہیں مشورہ دے رہے ہیں کہ ’پہلے سوچیں پھر بولیں۔‘

راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (آر آئی یو جے) نے ایک مراسلہ جاری کیا ہے جس میں تحریر ہے کہ حامد میر نے گزشتہ دنوں اپنی ایک تقریر میں ریاستی اداروں کو ہدف تنقید بنانے پر معافی مانگ لی ہے۔

مراسلے میں لکھا گیا ہے کہ اسلام آباد راولپنڈی یونین آف جرنسلٹس اور نیشنل پریس کلب کی کمیٹی نے 28 مئی کی تقریر کے حوالے سے سینیئر اینکر پرسن حامد میر سے ایک ملاقات کی۔ حامد میر نے ملاقات کے دوران اپنی تقریر پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا۔

یہ بھی پڑھیے

حامد میر تقریر سے قبل میر شکیل الرحمٰن سے بات کر لیتے

حامد میر نے کہا کہ انہوں نے سیاچن سے لے کر لائن آف کنٹرول (ایل او سی) تک اور فاٹا سے لے کر بلوچستان تک فوجیوں کی قربانیوں کو بہت قریب سے دیکھا ہے اور ان کی کوریج کو فخر کا باعث سمجھا ہے۔ ان کی تقریر کا مقصد کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا یا کسی کی دل آزادی کرنا ہرگز نہیں تھا۔

راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کی کمیٹی کے روبرو حامد میر نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ میرے الفاظ پر پہنچنے والی تکلیف پر میں تہہ دل سے معافی مانگتا ہوں۔

انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ صحافیوں پر حملوں کو رکوایا جائے، ماضی میں ہونے والے حملوں کے ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور اس معاملے پر پارلیمنٹ میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے جلد سے جلد قانون سازی کی جائے۔

راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس نے مراسلے کے آخر میں لکھا کہ اس وضاحتی بیان سے کمیٹی مکمل طور پر اتفاق کرتی ہے۔ توقع ہے کہ اب یہ معاملہ خوش اسلوبی کے ساتھ حل ہوجائے گا۔

ادھر معروف خاتون اینکر پرسن غریدہ فاروقی نے ٹوئٹر پر حامد میر کا معافی نامہ شیئر کیا ہے۔

ایک اور ٹوئٹ میں انہوں نے لکھا کہ آزادی صحافت کی وضاحت اور معذرت۔

ایک صحافی نے لکھا کہ حامد میر نے دل آزاری پر معذرت کر کے بڑے پن کا مظاہرہ کیا ہے جو کوئی اعلیٰ ظرف ہی کرسکتا ہے۔

اس ٹوئٹ پر حامد میر نے صحافی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں پر حملوں کا سلسلہ رکنا چاہیے اور قانون کی بالا دستی قائم ہونی چاہیے۔

واضح رہے کہ 28 مئی کو پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں صحافی و یوٹیوبر اسد علی طور پر تشدد کے خلاف احتجاج میں حامد میر نے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

صحافیوں کو میڈیا مالکان کے خلاف متحد ہونے کی ضرورت
TWITTER/@NaveedulHaqPak

اس تقریر کے بعد جیو نیوز نے حامد میر کو آف ایئر کردیا تھا جبکہ مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کے باوجود حامد میر وحاضتیں پیش کرتے رہے۔ اپنے ایک کالم میں حامد میر نے لکھا کہ شاید میں نے اسلام آباد پریس کلب کے باہر زیادہ کچھ بول دیا تھا لیکن میں نے بہت کچھ سہا ہے اور میں اب بھی پاکستان نہیں چھوڑوں گا۔

حامد مید نے اپنے الفاظ پر معافی مانگ لی ہے لیکن معافی نامہ سامنے آنے کے بعد صحافتی حلقوں کے کچھ لوگوں نے حامد میر کو مشورہ دیا ہے کہ پہلے سوچیں پھر بولیں تاکہ ایسی نوبت ہی نہ آئے۔

متعلقہ تحاریر