فہمیدہ مرزا اور محمد میاں سومرو وزیراعلیٰ سندھ کے مشترکہ مخالف

دونوں وزراء کا کہنا ہے کہ ماضی میں سندھ حکومت کو پیسے دیئے گئے جن سے محل ہی بنے لیکن عوام بدحال ہوئے۔

وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ فہمیدہ مرزا اور وزیر نجکاری محمد میاں سومرو نے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ پر شدید تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وفاق سندھ حکومت کو نہیں بلکہ صوبے کے عوام کو پیسے دے گا۔ ماضی میں سندھ حکومت کو پیسے دیئے گئے جن سے محل ہی بنے لیکن عوام بدحال ہوئے۔

وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ فہمیدہ مرزا اور وزیر نجکاری محمد میاں سومرو نے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے خلاف مشترکہ نیوز کانفرنس کی۔ فہمیدہ مزرا نے کہا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی 13 سال سے مسلسل حکمرانی کر رہی ہے۔ یہ صوبے میں ڈاکوؤں اور منشیات کا دھندا کرنے والوں کی سرپرستی کررہے ہیں اسی لیے یہ دن بہ دن زور پکڑتے جا رہے ہیں۔ آج سندھ میں ڈاکو راج ہے۔

یہ بھی پڑھیے

فردوس عاشق اعوان خواتین کے لیے باعث شرم

مشترکہ نیوز کانفرنس میں دونوں وزراء نے کہا کہ عمران خان سندھ میں پسماندہ علاقوں کی ترقی چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ سندھ کے بیانات کی پرواہ نہیں کریں گے۔ وزیر اعلی سندھ کو وزیر اعظم کا شکر گزار ہونا چاہیے تھا۔ ان گزشتہ 13 سال میں سندھ کو کھنڈر بنادیا گیا ہے۔ اسکولوں میں گائے اور بھینسیں باندھی جا رہی ہیں۔ آوارہ کتوں کی بھرمار ہے اور کتے کے کاٹ کی ویکسین نہیں۔ تھر میں بھوک کے سائے ہیں جہاں ایک دن میں 20 نومولود بچے مرنے کا واقعہ سب نے دیکھا ہے۔ انسان غیر معیاری پانی پی رہے ہیں۔ عام آدمی اور غریب کسان کے لیے پانی موجود نہیں اور فصلوں کی پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔ سکھر بیراج سے آگے کوٹری بیراج تک پانی نہیں آتا۔  فصلیں سوکھی پڑی رہتی ہیں اور غریب کی زمین تک پانی نہیں پہنچتا۔

فہمیدہ مرزا نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی نیوز کانفرنس سے مایوسی ہوئی۔ وزیر اعظم کی توجہ پسماندہ علاقوں کی ترقی پر ہے۔ قومی ترقیاتی بجٹ میں پسماندہ علاقوں کا مساوی حق ہے۔ ترقی، تعلیم اور صحت سب کا حق ہے۔ مراد علی شاہ کو شکوہ ہے کہ وزیراعظم یونین کونسل کی اسکیمیں دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی 13 سال سے سندھ میں حکومت کر رہی ہے۔ بدین، ٹھٹھہ اور دادو میں پسماندگی دور کرنے کے لیے کیا کیا؟ سندھ حکومت میں رہنے والوں کے ہر شہر میں محل ہیں۔ سندھ حکومت جمہوریت کی چیمپئن بنتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ سندھ اسمبلی کی کسی قائمہ کمیٹی میں اپوزیشن کی نمائندگی نہیں۔ سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا سربراہ بھی اپوزیشن سے نہیں۔ ترقی، تعلیم اور صحت سب کا حق ہے اور وفاق یہ حق پہنچائے گا۔ کرپٹ ترین افسر کو اینٹی کرپشن میں تعینات کیا گیا ہے۔

اس موقع پر محمد میاں سومرو نے کہا کہ وفاق نے سندھ میں چھوٹی نہروں کے لیے 11 ارب روپے دیئے لیکن کوئی کام نہ ہوا۔ وزیر اعلیٰ سندھ صوبے کی نہروں کا ایک گھونٹ پانی پی کر دکھائیں۔ سندھ حکومت میں ڈاکو زور پکڑ رہے ہیں۔ منشیات اور بھتہ خوری عروج پر ہے۔ سندھ اور بلوچستان کے بارڈر پر منشیات اور جوئے کا راج ہے۔ پسماندہ علاقوں میں اسپتال نہ ہونے کے برابر ہیں۔ سندھ کے دیہی علاقوں میں سرکاری زمین پر قبضہ مافیا نے پنجے گاڑھ لیے ہیں۔ اہم زمینوں اور عمارتوں پر قبضے کرلیے گئے ہیں۔

وزیر نجکاری محمد میاں سومرو نے مزید کہا کہ سندھ میں منشیات عام ہیں جبکہ سانپ اور کتے کے کاٹنے کی ویکسین دستیاب نہیں ہے۔ 18ویں ترمیم کے بعد صحت صوبائی مسئلہ ہے لیکن صحت عامہ سندھ حکومت کی ترجیح نہیں۔

متعلقہ تحاریر