بھکر کے معروف یوٹیوبر امداد کے نام پر فراڈ کرنے لگے
یوٹیوبر سبطین اولکھ کی جانب سے بیوہ خواتین کے نام پر حاصل ہونے والی امدادی رقوم ہڑپ کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع بھکر کے مقامی معروف یوٹیوبر غریب خاندانوں اور خصوصاً بیوہ خواتین کے نام پر فراڈ کرنے لگے ہیں۔ یوٹیوبر سبطین اولکھ کی جانب سے مبینہ طور پر بیوہ خواتین کے نام پر حاصل ہونے والی امدادی رقوم ہڑپ کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ بیوہ خواتین نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے یوٹیوبر کے خلاف کارروائی کرنے اور ان کی امدادی رقوم واپس دلوانے کا مطالبہ کیا ہے۔
بھکر سے تعلق رکھنے والے معروف یوٹیوبر سبطین اولکھ سے متعلق متاثرہ خاندانوں کی خواتین نے اپنی اپنی روداد نیوز 360 کے سامنے بیان کردی ہے۔ نیوز 360 سے گفتگو کرتے ہوئے بیوہ خاتون رضیہ بی بی نے بتایا کہ سبطین اولکھ ان کے گھر آئے تھے، انہیں امداد کی یقین دہانی کرائی تھی اور ویڈیو بنا کر لے گئے تھے۔ جب امدادی رقم موصول ہوگئی تو سبطین اولکھ رقم لے کر ان کے پاس آئے اور ایک لاکھ روپے دے کر کہنے لگے کہ آپ امداد کرنے والوں کا شکریہ کریں اور ویڈیو بھی بنائی۔ تاہم امداد دینے والی پارٹی جب روانہ ہوگئی تو سبطین اولکھ نے انہیں 10 ہزار روپے ادا کیے اور باقی رقم بعد میں دینے کا وعدہ کر کے چلے گئے۔
یہ بھی پڑھیے
شادی بیاہ میں بھانڈ اور میراثیوں کی روایت دم توڑنے لگی
رضیہ بی بی نے بتایا کہ ان کی بیٹی کی شادی کے لیے رقم کی اشد ضرورت تھی۔ اس کے لیے انہوں نے اپنے بیٹے کو اینٹوں کے بھٹے پر ملازم رکھوا کر ادھار پیسے لیے اور اس رقم سے اپنی بیٹی کی شادی کی تاہم سبطین اولکھ اب پیسے دینے سے انکاری ہیں۔
عزیزہ بی بی نامی ایک اور بیوہ خاتون نے نیوز 360 سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سبطین اولکھ نے امداد دلوانے کے وعدے پر ان کے خستہ حال گھر کی ویڈیو بنائی اور بعدازاں 2 ہزار روپے ادا کر کے چلے گئے۔
عزیزہ بی بی نے کہا کہ ’باقی رقم کے مطالبے پر سبطین اولکھ دھمکیاں دیتے ہیں۔ میری اعلیٰ حکام سے اپیل ہے کہ وہ میری رقم مجھے واپس دلوائیں اور سبطین اولکھ کے خلاف کارروائی کریں۔ میں بیوہ خاتون ہوں میرا کوئی زور نہیں ہے۔‘
بھکر کے عوامی رہنماؤں اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے فراڈ یوٹیوبر پر پابندی لگائی جائے تاکہ معاشرے کے زخموں کو ناسور بننے سے روکا جاسکے۔









