ساحل سمندر پر دھنسا جہاز دوسرا تسمان اسپرٹ تو ثابت نہیں ہوگا؟
تسمان اسپرٹ سے ہزاروں ٹن تیل بہہ جانے سے آبی حیات ختم ہوکر رہ گئیں تھیں۔
کراچی کے ساحل سمندر پر پھنسے مال بردار بحری جہاز میں لاکھوں لیٹر تیل موجود ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ شہریوں میں اس حوالے سے تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کہ کہیں یہ جہاز دوسرا تسمان اسپرٹ ثابت نہ ہوجائے۔
مال بردار کارگو جہاز ہینگ ٹونگ 77 شنگھائی سے ترکی جارہا تھا کہ کراچی بندرگاہ پر لنگر ٹوٹنے سے جہاز اونچی لہروں کے باعث سی ویو کے قریب ریت میں دھنس گیا۔
کراچی میں ہینگ ٹینگ 77 نامی بحری جہاز سی ویو کی حدود میں پھنس گیا
بحری جہازہانگ کانگ سےکراچی کی حدودمیں پہنچاتھا pic.twitter.com/sEQQ22vIHa— M.Salahuddin (@salahary) July 21, 2021
کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ عملے کی طرف سے کے پی ٹی انتظامیہ کو آگاہ کرنے سے پہلے ہی جہاز کم پانی کی وجہ سے ریت میں دھنس گیا، پاکستان میری ٹائم کی جانب سے صورتحال کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
By the time the vessel informed KPT of her drifting, it was already in shallow waters.
PMSA was also alerted by KPT immediately.
KPT Navigation Channel has not been impacted.
Furthermore, KPT Marine Pollution staff is closely monitoring the situation.
— KPTOfficial (@official_kpt) July 21, 2021
یہ بھی پڑھیے
چین کی گہرے سمندر پر کی گئی ایک دہائی طویل تحقیق
شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کہ کہیں یہ جہاز دوسرا تسمان اسپرٹ ثابت نہ ہوجائے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 2003 میں کراچی کے ساحل سمندر پر تیل سے لدا یونان کا بحری جہاز تسمان اسپرٹ بھی دھنس گیا تھا، جہاز سے ہزاروں ٹن تیل بہہ جانے سے آبی حیات ختم ہوگئی تھیں اور تمر کے جنگلات سوکھ گئے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مال بردار جہاز میں بھی لاکھوں لیٹر ڈیزل موجود ہے جس سے تسمان اسپرٹ جہاز کی طرح آبی حیات کو شدید خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ ماہرین نے حکومت سے جلد از جلد جہاز سے ڈیزل نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔
دو روز قبل وفاقی وزیر برائے پورٹس اینڈ شپنگ علی زیدی نے ساحل پر دھنسنے والے جہاز کا معائنہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی صورت کراچی کے ساحل کو شپ بریکنگ یارڈز میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے۔
On Minister’s instructions the shipping agent has been directed to submit the plan with way forward.
"We cannot allow our beaches to become ship breaking yards” said the Minister. pic.twitter.com/kIlN0c5RsZ
— Ministry of Maritime Affairs, Govt of Pakistan (@MaritimeGovPK) July 22, 2021
تسمان اسپرٹ کے حادثے کے باعث ہزاروں افراد جلدی بیماریوں میں بھی مبتلا ہوگئے تھے جبکہ مچھلیاں ختم ہونے سے کئی سال تک ماہی گیروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ شہریوں سے درخواست کی جارہی ہے کہ وہ احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور جہاز کے قریب نہ جائیں۔









