مریم نواز نے اپنے بیان پر یوٹرن لے لیا
متعدد کورٹ رپورٹرز نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر مریم نواز کے بیان کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے بیان پر یوٹرن لیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی پارٹی کے بارے میں وہ کچھ نہیں کہا جو میڈیا پر رپورٹ کیا گیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایون فیلڈ ریفرنس کیس کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ وہ آرمی چیف کی مدت ملازمت کی توسیع کے گناہ میں شامل نہیں تھی۔
یہ بھی پڑھیے
کیا کوروناسے بچاؤکی ویکسین نوازشریف کو واپس لانےمیں کامیاب ہوگی
اس موقع پر ایک صحافی نے سوال کیا کہ چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ پھر سے آرہا ہے اس پر مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا تھا ککہ چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ پارٹی کے سامنے آیا تو اس وقت بات کریں گے۔
صحافی نے سوال کیا کہ مسلم لیگ (ن) نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے موقع پر ووٹ تو دیا تھا؟۔
اس پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ "میں اس (ن) لیگ کا حصہ نہیں تھی۔”
I never said I was “not in that PMLN”. I am cradle to grave PMLN. Rest all true. https://t.co/qDQZa5hSwv
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) September 23, 2021
مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر نے بظاہر آرمی چیف کی توسیع کی ذمہ داری پارٹی صدر شہباز شریف پر ڈال دی ہے۔
جب عدالت کے رپورٹرز نے ٹوئٹر پر یہ اطلاع دی تو مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر نے اس کا نوٹس لیا اور وضاحتیں دینا شروع کر دی ہیں۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وضاحت دیتے ہوئے مریم نواز نے کہا ہے کہ ” میں نے کبھی نہیں کہا کہ میں اُس "پی ایم ایل این” کا حصہ نہیں تھی۔ میرا جینا مرنا مسلم لیگ ن کے ساتھ ہے۔ باقی سب سچ ہے۔”
مریم نواز کی وضاحت اپنی جگہ تاہم معروف صحافی اسد نے مریم نواز کے حوالے سے ان کے بیان کو ٹوئٹر پر شیئر کیا ہے۔ عام طور پر سیاسی تجزیہ کار صحافی اسد طور کو مسلم لیگ (ن) کی پارٹی کا حصہ کہتے ہیں۔
Journalist asks @MaryamNSharif “one extension (COAS) was given, what is your opinion now on Chairman NAB extension?” She replied I was not part of first (COAS) extension.” Journalist asked follow up question “your party #PMLN voted for it” she replied “I was not in that PMLN.” pic.twitter.com/ceAlRGuVdl
— Asad Ali Toor (@AsadAToor) September 23, 2021
دنیا نیوز کے رپورٹر عامر سعید علی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مریم نواز کے بیان شیئر کیا ہے۔
مریم نواز کی کمرہ عدالت میں غیر رسمی گفتگو
ایک ایکسٹینشن پہلے دی گئی تھی اب چئیرمین نیب کو دی جا رہی کیا کہیں گی؟مسلم لیگ ن نے تو ووٹ دیا تھا؟ صحافی
پہلی والی ایکسٹینشن کے گناہ میں میں شریک نہیں تھی،میں اُس مسلم لیگ ن میں نہیں تھی، مریم نواز
— Aamir Saeed Abbasi (@AmirSaeedAbbasi) September 23, 2021
اس طرح معروف صحافی اویس یوسفزئی نے صحافی اور مریم نواز کے سوالات اور جوابات کو ٹوئٹر پر شیئر کیا ہے۔
مریم نواز کی کمرہ عدالت میں غیر رسمی گفتگو:-
ایک ایکسٹینشن پہلے دی گئی تھی اب چیئرمین نیب کو دی جا رہی کیا کہیں گی؟ صحافی
پہلی والی ایکسٹینشن کے گناہ میں میں شریک نہیں تھی، مریم نواز
مسلم لیگ ن نے تو ووٹ دیا تھا، صحافی
میں اُس مسلم لیگ ن میں نہیں تھی، مریم نواز
— Awais Yousaf Zai (@awaisReporter) September 23, 2021
مسلم لیگ (ن) کے سینئر رکن خواجہ آصف نے مریم نواز کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ "آرمی چیف کی ایکسٹینشن کے بِل کی حمایت کا فیصلہ نواز شریف نے خود کیا تھا۔”
گل ودھ گئ اے مختاریا
مریم نواز نے آج آرمی چیف کی ایکسٹینشن کے حوالے سے سارا ملبہ شہباز شریف پر ڈالنے کی کوشش کی جبکہ خواجہ آصف کہہ رہے ہیں کہ آرمی چیف کی ایکسٹینشن کے بِل کی حمایت کا فیصلہ نواز شریف نے خود کیا تھا pic.twitter.com/ETlYo8FJJz
— Umer Inam (@UmerInamPk) September 23, 2021









